کے سی آر کا حقیقی امتحان، مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات اور مسلم ڈپٹی چیف منسٹر کے وعدوں کی یاد دہانی
حیدرآباد 18 فبروری (سیاست نیوز) جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے لوک سبھا میں تلنگانہ بِل کو منظوری دیئے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ 58 سالہ قدیم اس مطالبہ کے پورا ہونے کے آثار نمایاں ہوچکے ہیں۔ اُنھوں نے تلنگانہ بِل کی لوک سبھا میں منظوری پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ یہ کسی سیاسی جماعت، قائد یا پھر تلنگانہ حامی تنظیموں کی کامیابی نہیں بلکہ تلنگانہ کے 4.5 کروڑ عوام کی کامیابی ہے۔ اُنھوں نے سیاسی جماعتوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے وعدوں پر برقرار رہتے ہوئے عوام کا اعتماد حاصل کریں۔ جناب زاہد علی خاں نے تلنگانہ کی مخالفت کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ جن لوگوں کے تجارتی مفادات حیدرآباد سے جڑے ہوئے ہیں وہ علیحدہ ریاست کی تشکیل کی مخالفت کررہے ہیں اور عوامی مطالبہ کو دبانے میں مصروف ہیں۔ ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے بتایا کہ تلنگانہ مسئلہ تلنگانہ عوام کی عزت نفس کا مسئلہ ہے لیکن دوسرے خطوں سے تعلق رکھنے والوں کی مرضی اِن پر مسلط کی جارہی تھی مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔ اُنھوں نے حیدرآباد کو 10 سال کے لئے مشترکہ صدر مقام بنائے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آج کے عصری دور میں اندرون 5 برس شہر کی تعمیر و ترقی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ اسی لئے اس ترمیم کے متعلق منتخبہ عوامی نمائندوں کو غور کرنا چاہئے۔
جناب زاہد علی خاں نے لاء اینڈ آرڈر کو گورنر کے حوالے کئے جانے پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پولیس راست گورنر کی نگرانی میں ہونے کے سبب سیاستدانوں کی یا عوامی نمائنوں کی نمائندگیاں اثرانداز نہیں ہوں گی جس کے نتیجہ میں حیدرآباد میں بھی دہلی جیسی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ اُنھوں نے صدر تلنگانہ راشٹرا سمیتی مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ کے سی آر کے لئے اب تک جدوجہد کا وقت تھا اور اب امتحان کا وقت ہے۔ اسی لئے انھیں چاہئے کہ وہ کسی بھی فیصلہ سے قبل مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے علاوہ سیاسی تحفظات و ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدے کے وعدوں کو فراموش نہ کرے۔ ایڈیٹر سیاست نے ریاست تلنگانہ کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وہ اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ حیدرآباد کی گنگا جمنی تہذیب کی بازیابی کو اس ریاست میں یقینی بنایا جائے گا اور ریاست تلنگانہ ملک کی دیگر ریاستوں سے زیادہ تیز رفتار ترقی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، بہتر زرعی پیداوار، بہتر تعلیمی نظام، اُردو کی ترقی و ترویج کے علاوہ بہترین معاشی پالیسی کے ذریعہ ملک بھر میں اپنا منفرد مقام پیدا کرے گی۔ جناب زاہد علی خاں نے بتایا کہ تلنگانہ حامی قائدین کو چاہئے کہ وہ حیدرآباد کے علاوہ تلنگانہ کے دیگر اضلاع میں قیام کئے ہوئے سیما ۔
آندھرا عوام میں اعتماد بحال کرتے ہوئے انھیں کسی بھی طرح کے خدشہ میں مبتلا نہ ہونے دیں۔ اُنھوں نے ریاست کی تقسیم کے طریقہ کار کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ طریق درست نہیں تھا لیکن 58 سالہ اس مطالبہ کی یکسوئی بھی ضروری تھی۔