حیدرآباد /12 مارچ (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن راجیہ سبھا ایم اے خان نے پی لکشمیا کو تلنگانہ پردیش کانگریس کا صدر نامزد کرنے کا خیرمقدم کرتے ہوئے تلنگانہ کے ہر ضلع سے کم از کم ایک مسلم قائد کو اسمبلی کا ٹکٹ دینے کانگریس ہائی کمان سے مطالبہ کیا۔ احاطہ اسمبلی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے یہ بات کہی۔ اس موقع پر کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل پی سدھاکر ریڈی اور سابق رکن قانون ساز کونسل کے جناردھن ریڈی بھی موجود تھے۔ مسٹر خان نے کہا کہ 60 سالہ قدیم تلنگانہ کا مطالبہ پورا کرنے والی کانگریس صدر سونیا گاندھی نے تلنگانہ پردیش کانگریس اور دیگر کمیٹیوں کی تشکیل میں سماجی انصاف کا عملی ثبوت دیا ہے، کیونکہ پی لکشمیا کو اگر صدر بنایا ہے تو اتم کمار ریڈی کو کارگزار صدر بنایا گیا ہے۔ اسی طرح تشہیری کمیٹی کے لئے سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج نرسمہا کو صدر اور محمد علی شبیر کو معاون صدر بنایا گیا ہے، جب کہ منشور کمیٹی اور دیگر کمیٹیوں کی تشکیل میں بھی سماجی انصاف کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ کانگریس ہائی کمان نے علاقہ تلنگانہ کے لئے بہترین ٹیم تشکیل دی ہے، لہذا اب ٹیم میں شامل افراد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات کے لئے پارٹی امیدواروں کے انتخاب میں سماجی انصاف کریں۔ انھوں نے کہا کہ ہر ضلع سے ایک مسلم امیدوار بنانے کے علاوہ پسماندہ طبقات اور نوجوان طبقہ کو مناسب نمائندگی دے کر کانگریس کیڈر میں جوش و خروش پیدا کریں اور کانگریس کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے میں کلیدی رول ادا کریں۔ انھوں نے کہا کہ وہ بحیثیت رکن راجیہ سبھا پارٹی کے استحکام اور امیدواروں کو کامیاب بنانے میں اپنی خدمات فراہم کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی کے ہندوتوا کا جواب صرف کانگریس پارٹی دے رہی ہے، جب کہ بی جے پی کے وزارت عظمی کے امیدوار نریندر مودی سیاسی مفادات کے لئے ہندو۔ مسلم اتحاد میں دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوں گے اور نہ ہی کانگریس انھیں کامیاب ہونے دے گی۔