کانگریس کو ایک پر کامیابی ، کھمم اور رنگاریڈی کے نتائج کا اعلان ہنوز باقی
حیدرآباد ۔ 5 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ کے 9 ضلع پریشدوں کے منجملہ 6 ضلع پریشدوں پر حکمراں تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے قبضۃ کرلیا ۔ ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے صدور نشین ضلع پریشد کے عہدوں کے لیے آج انتخابات منعقد کئے گئے تھے متعدد ضلع پریشد ارکان کا اغواء کرلینے کی اطلاعات تھیں ۔ بالخصوص کانگریس نے اپنے ارکان ضلع پریشد کو مختلف ترغیبات دیتے ہوئے تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی جانب سے اغواء کرلیئے جانے کی اطلاعات ہی نہیں بلکہ الزامات عائد کئیے جارہے ہیں ۔ تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے علاقہ تلنگانہ کے 9 صدور نشین ضلع پریشدوں کے منجملہ زیادہ سے زیادہ یعنی سات تا آٹھ ضلع پریشدوں پر قبضہ جمانے کی منصوبہ بندی کی تھی لیکن لمحہ آخر میں ٹی آر ایس کی یہ حکمت عملی کارگر نہ ہوسکی ۔ اس کے باوجود اکثریت نہ رکھتے ہوئے بھی اپنی طاقت و اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے 9 کے منجملہ 6 ضلع پریشد صدور نشین کو منتخب کروالینے میں کامیابی تو حاصل کرلی ۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی جو کہ تلنگانہ میں برسر اقتدار جماعت ہے ان صدور نشین ضلع پریشد کے انتخابات میں اپنے امیدواروں کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر اپنے مقام کو مضبوط و مستحکم بناتے ہوئے بالاخر 9 ضلع پریشدوں کے منجملہ 6 ضلع پریشدوں کو حاصل کرنے میں تلنگانہ راشٹرا سمیتی کامیاب ثابت ہوئی ۔ اس طرح تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے جن اضلاع کے ضلع پریشدوں پر قبضہ جماتے ہوئے کامیابی حاصل کی ہے ان میں ضلع پریشد ورنگل ، کریم نگر ، نظام آباد ، عادل آباد ، میدک اور محبوب نگر شامل ہیں۔ جب کہ ضلع پریشد نلگنڈہ پر کانگریس پارٹی نے تلگو دیشم کا تعاون حاصل کر کے کامیابی حاصل کی ۔ ضلع رنگاریڈی صدر نشین ضلع پریشد کا انتخاب کورم نہ رہنے کی وجہ سے ملتوی کردیا گیا ۔ علاوہ ازیں صدر نشین ضلع پریشد کھمم کے انتخاب پرہائی کورٹ کے حکم التواء پر انتخاب نہیں ہوسکا ۔۔