حیدرآباد ۔ 20۔ مئی (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے 35 فیصد ایم بی بی ایس کی انتظامی نشستوں کیلئے علحدہ آن لائین انٹرنس ٹسٹ کو منظوری دیدی ہے۔ ریاست تلنگانہ میں موجود 15 خانگی میڈیکل کالج اس سال سے مینجمنٹ کی 35 فیصد نشستوں کیلئے علحدہ آن لائین انٹرنس ٹسٹ منعقد کریں گے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب حکومت سے کئے گئے اس اقدام کا راست فائدہ ایم بی بی ایس میں داخلے کے خواہشمند ان طلباء کو پہنچے گا جو داخلوں میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے۔ بتایا جاتاہے کہ 735 بی زمرہ کی ایم بی بی ایس نشستوں کیلئے علحدہ آن لائین انٹرنس ٹسٹ منعقد ہوگا اور اس سلسلہ میں حکومت تلنگانہ کی جانب سے اندرون دو یوم احکامات کی اجرائی متوقع ہے ۔ حکومت کی جانب سے مینجمنٹ کی نشست کے بی زمرہ میں داخلہ حاصل کرنے والے طلبہ کیلئے سالانہ 9 لاکھ روپئے تک کی فیس کی حد مقرر کی گئی ہے۔ بی زمرہ میں جملہ 735 نشستیں ہیں اور ان نشستوں کے ذریعہ 5 سال میں 330.75 کروڑ روپئے بطور فیس وصول کئے جارہے ہیں۔ حکومت نے فوری طور پر سی زمرہ میں انٹرنس ٹسٹ منعقد نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں غیر مقیم ہندوستانی طلبہ کو داخلے فراہم کئے جاتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے 15 فیصد نشستیں این آر آئی کوٹہ کے تحت خانگی میڈیکل کالجس میں محفوظ ہیں اور کالجس اس زمرہ میں داخلہ حاصل کرنے والوں سے 11 لاکھ روپیوں تک سالانہ فیس وصول کرنے کے مجاز قرار دیئے گئے ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں فی الحال 15 خانگی اور 5 سرکاری میڈیکل کالجس موجود ہیں جن میں 2950 ایم بی بی ایس کی نشستیں ہیں۔ 15 خانگی کالجس میں 2100 نشستیں ہیں جس میں 1050 نشستوں پر راست حکومت کی جانب سے کنوینر کوٹہ کے تحت داخلے فراہم کئے جاتے ہیں۔ مابقی 50 فیصد نشستوں میں سے 735 نشستیں بی زمرہ کیلئے مختص ہے جو کہ 35 فیصد مینجمنٹ نشستیں ہیں اور 15 فیصد این آر آئی کوٹہ موجود ہے جس میں 315 نشستیں شامل ہیں۔ مختلف تنظیموں نے بی زمرہ کی نشستوں کیلئے آن لائین انٹرنس ٹسٹ منعقد کرنے کے طریقہ کار کو غیر درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مزید مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے اور غریب طلبہ کو نشستوں کے حصول میں دشواریاں پیدا ہوسکتی ہیں جبکہ کالجس کے ذمہ داران کے علاوہ ڈاکٹرس کی بعض تنظیموں کا احساس ہے کہ اس عمل سے داخلوں میں شفافیت پیدا ہوگی اور ایم بی بی ایس کالجس میں من مانی ڈونیشنس کی وصولی کا مسئلہ ختم ہونا شروع ہوجائے گا لیکن سی زمرہ میں داخلے کیلئے انٹرنس کا عدم انعقاد 15 فیصد نشستوں پر کالجس کی من مانی کھلی چھوٹ فراہم کرنے کے مترادف ثابت ہورہا ہے۔