تلنگانہ کے قیام کے لیے شرائط دستور کی خلاف ورزی

حیدرآباد۔11فبروری(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے وقت پیاکج پروگرام کے نام آندھرائی سرمائیداروں کو رعایتیں اور تحفظات پیش کررہی ہے۔ انقلابی مصنف وشاعر ورا ورارائو نے گاندھی نگر پولیس اسٹیشن میں حراست کے دوران مرکزی حکومت پر یہ الزام عائد کیا۔ تلنگانہ حامی تنظیموںکے بند کی تائید میں نکالی گئی ریالی کے دوران مسٹر ورا ورارائو‘ مسٹر ایم ویدا کمار نائب صدر ٹی پی ایف‘پروفیسر ویملا‘جیا‘ دیویندرا‘ این کرشنا اور دیگر کو آرٹی سی چوراہے اور مجسمہ امبیڈکرٹینک بنڈ سے گرفتار کرکے گاندھی نگر پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا جہاں پر ضابطے کی تکمیل کے بعد تمام کو رہا بھی کردیاگیا۔ میڈیا سے اپنی گفتگو کے سلسلے کوجاری رکھتے ہوئے ورا ورارائو نے کہاکہ تلنگانہ حامی تمام انقلابی تنظیمیں اس بند کی تائیدکررہے ہیں جس کا مقصدتلنگانہ کے ساتھ مزید ناانصافی کو روکنا ہے۔ انہوں نے تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے لئے شامل کئے گئے شرائط کو دستور ہند کی خلاف ورزی قراردیا انہوں نے کہاکہ دستور ہند میں قبائیلی طبقات کی ترقی کے لئے شیڈول5اور 6شامل کیا گیا مگرپولاروم پراجکٹ کو جس کے ذریعہ تین سو گائوں پر مشتمل قبائیلی علاقہ زیر آب ارہا ہے کو قومی موقف فراہم کیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ پولاروم پراجکٹ پر مرکزی حکومت کا فیصلہ غیر دستور اقدام ہے جس کی سخت الفاظوں میںمذمت ضروری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ اور آندھرا کے نام پر پانچ لاکھ قبائیلوں کو بے گھر کرنے کا کسی کو حق حاصل نہیںہے انہوں نے پولاروم پراجکٹ پر مرکزی حکومت سے اپنا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا

۔مسٹر وراورا رائو نے مشترکہ صدر مقام اور شہر ی انتظامیہ پر گورنر کا کنٹرول کے فیصلے کی بھی سختی کے ساتھ مذمت کی اور کہاکہ حیدرآبادجو مسلم اکثریت والا علاقہ ہے وہا ںپ نظم ونسق پر گورنر کے کنٹرول کا اعلان حیدرآباد کے مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات کو تلنگانہ میںروبعمل لانے کے دعوے کرنے والی سیاسی جماعتیں بالخصوص تلنگانہ راشٹرایہ سمیتی کی شہری انتظامیہ پر گورنر کے کنٹرول کے فیصلہ پر خاموشی معنیٰ خیز ہے ۔ انہوں نے تلنگانہ حامی تنظیموں اور جہد کاروں کی جانب سے تلنگانہ میں بل میں درکار ترمیمات کے متعلق جو مطالبات کئے گئے ہیںان پر عمل آواری ہی تلنگانہ کے ساتھ انصاف ہوگا۔ مسٹر ویدا کمار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ بغیر کسی شرائط کے تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے لئے طلبہ تنظیموں کے ساتھ تلنگانہ پرجافرنٹ اور دیگر تلنگانہ حامی تنظیموں آج جو بند کا اعلان کیا ہے اس کا مقصد سیما آندھرا سرمائیداروں کے زیر قبضہ تلنگانہ کی غریب عوام کے اراضیات کی بازیابی ہے انہوں نے کہاکہ مشترکہ ہائی کورٹ اور مشترکہ تعلیمی نظام کے ذریعہ تلنگانہ میں سیما آندھرا قائدین اور سرمائیداروں کی اجارہ داری کو برقرار رکھنے کی جو کوششیں کی جارہی ہیں اس کے خلاف ہم آخر دم تک جدوجہد کریں گے۔ اس دوران نامپلی سے تلنگانہ پرجافرنٹ گریٹر حیدرآباد کی جانب سے بند کی تائید میںایک موٹر سیکل ریالی نکالی گئی جس کوصدر ٹی پی ایف گریٹرحیدرآباد جناب منیر الدین مجاہد نے جھنڈی دیکھائی۔ ریالی میںفرنٹ کے قائدین ثناء اللہ خان‘ اسلم عبدالرحمن‘ ایم ایم شریف‘ سید لئیق علی ‘ نصیر سلطان اور سینکڑوں تلنگانہ حامیوں نے حصہ لیابعد ازاں چارمینار چوراہے پر ان تمام قائدین کو گرفتار کرکے پولیس نے گاندھی نگر پولیس اسٹیشن منتقل کردیا۔