بیگم پیٹ ایرپورٹ کے احیاء پر سوال ، مرکزی حکومت سے نمائندگی پر غور
حیدرآباد ۔ 7 جولائی (سیاست نیوز) بیگم پیٹ ایرپورٹ جوکہ 2008ء میں شمس آباد ایرپورٹ کے آغاز کے ساتھ ہی بند کردیا گیا تھا کیا وہ کھول دیا جائے گا ؟ حکومت تلنگانہ تاریخ و تہذیب کی حفاظت اور ایام گم گشتہ کی بحالی کے دعوے کررہی ہے اور تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے نام پر حیدرآباد میٹرو ریل کے تعمیری کاموں کو رکوانے کی واسطہ یا بالواسطہ ہدایات جاری کررہی ہیں۔ علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے شہر حیدرآباد کے طول و عرض میں مزید دو ایرپورٹ قائم کرنے کی بات کی جارہی ہے۔ حکومت تلنگانہ اگر اپنے اعلانات کے متعلق سنجیدہ ہے اور وہ چاہتی ہے کہ حیدرآباد کے تاریخی ورثہ کا تحفظ کیا جائے اور اُس کی اہمیت و افادیت برقرار رکھی جائے تو ممکن ہے کہ وہ حیدرآباد کے تاریخی بیگم پیٹ ایرپورٹ کی بحالی کو یقینی بناتے ہوئے بیگم پیٹ سے اندرون ملک پروازوں کا آغاز کرنے کے اقدامات کرے گی اور مرکزی حکومت سے بیگم پیٹ ایرپورٹ کی ازسرنو کشادگی کے سلسلہ میں نمائندگی کی جائے گی تاکہ شہریان حیدرآباد کو نہ صرف سہولت حاصل ہو بلکہ تاریخی بیگم پیٹ ایرپورٹ کی برقراری کو یقینی بنایا جاسکے۔ 1930ء میں حیدرآباد ایروکلب کے قیام کے ذریعہ بیگم پیٹ ایرپورٹ کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اس کے بعد اس ایرپورٹ کا باضابطہ استعمال شروع ہوگیا اور 1937ء میں ٹرمنل کی عمارت کے ساتھ بیگم پیٹ قدیم ایرپورٹ کا باضابطہ آغاز ہوا تھا۔ سلطنت آصفیہ کے دورحکومت شروع کردہ اس تاریخی ایرپورٹ کی کشادگی سے نہ صرف حیدرآباد کی ترقی کی مثال پیش کی جاسکتی ہے بلکہ اندرون ملک پروازوں کے اس ایرپورٹ کے ذریعہ آغاز کی صورت میں شہریان حیدرآباد جو اندرون ملک سفر کررہے ہوں انہیں بڑی راحت حاصل ہوگی کیونکہ حیدرآباد سے ممبئی کے ہوائی سفر کیلئے تقریباً 70 تا 75 منٹ درکار ہوتے ہیں جبکہ شمس آباد ایرپورٹ سے ہوائی سفر کے آغاز کیلئے زائد از 2 گھنٹے قبل مسافرین کو اپنی رہائش سے روانہ ہونا پڑ رہا ہے۔ شمس آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ کے آغاز کے بعد سے اندرون ملک ہوائی سفر کے رجحان میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی ہے اور ماہرین کا احساس ہیکہ اس کمی کی بنیادی وجہ ایرپورٹ پر حاصل کئے جانے والے اضافی سرچارجس کے علاوہ دو گھنٹے قبل ایرپورٹ پہنچنا اور دیگر ضیاع اوقات ہیں۔ حکومت تلنگانہ اب جبکہ مزید 2 ایرپورٹ کے حیدرآباد میں آغاز کے سلسلہ میں غور کررہی ہے ایسی صورت میں حکومت کو چاہئے کہ فوری طور پر 1972ء میں تیار کردہ نئے بیگم پیٹ ایرپورٹ کی کشادگی کے سلسلہ میں مرکز سے نمائندگی کرے تاکہ اس ایرپورٹ کے آغاز کو یقینی بنایا جاسکے۔ بیگم پیٹ ایرپورٹ جو کہ 23ء مارچ 2008ء کو شمس آباد ایرپورٹ کے آغاز کے بعد بند کیا جاچکا ہے۔ اس کے بند ہوتے وقت ملک کا چھٹواں مصروف ترین ایرپورٹ ہوا کرتا تھا۔ اب اس ایرپورٹ پر روزانہ 20 ہزار مسافرین آمد و رفت ہوا کرتی تھی جبکہ ایرپورٹ اس سے زائد مسافرین کی آمد ورفت کا متحمل ہے۔ حکومت کی جانب سے اگر اس ایرپورٹ کی کشادگی عمل میں آتی ہے تو ایسی صورت میں نہ صرف شہریان حیدرآباد کو سہولت ہوگی بلکہ عازمین حج کی خصوصی پروازوں کی بھی بیگم پیٹ ایرپورٹ سے روانگی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے جس سے عازمین حج کو بھی کافی سہولت حاصل ہوگی۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے ایرپورٹ کی کشادگی کی صورت میں نہ صرف شہر کی ہوٹلوں کے کاروبار جوکہ متاثر ہوئے ہیں بحال ہوجائیں گے بلکہ شہر میں بغرض سیاحت فضائی سفر کے ذریعہ پہنچنے والوں کی تعداد میں جو تخفیف ہوئی ہے اس میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا جاسکتا ہے۔