کتابوں کے تحفظ پر زور، ٹی آر سی کا مذاکرہ، پی وینکٹیشور راؤ کا خطاب
حیدرآباد۔8مارچ(سیاست نیوز) لائبریریوں کا قیام ریاست میں تاریخی اثاثوں کی اہمیت و افادیت کے لئے نہایت ہی اہمیت کا حامل اقدام ہے جس کو آصف جاہی دور کے حکمرانوں نے سمجھتے ہوئے سنٹرل لائبریری کا قیام عمل میں لایا جو آج بھی تاریخ کا مطالعہ کرنے والوں کے لئے کارآمد ثابت ہورہی ہے۔ چندرم حمایت نگر میں تلنگانہ ریسور س سنٹر کے 165ویں مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے تلنگانہ جہدکار پی وینکٹیشورا رائو نے یہ بات کہی۔ پروفیسر جئے دھیر ترومل رائو‘ پروفیسر لکشمن رائو‘ کے سدھاکر گوڑ نے اپنے خطاب میں تلنگانہ کے دس اضلاع میںحکومت کی جانب سے اسٹیٹ لائبریری کے قیام کو ضروری قراردیا۔ مسٹر پی وینکٹیشوار رائو نے مزید کہاکہ لائبریری تلنگانہ کی تہذیب وتمدن کا اہم حصہ ہے جس کی حفاظت میں متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے حکمرانوںنے کوتاہی برتی۔ انہوں نے مزیدکہاکہ تلنگانہ میںاسٹیٹ لائبریری کا قیام خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست کی عوام کو مطالعے سے کافی دلچسپی ہے جس کے پیش نظر آصف جاہی حکمران نے اسٹیٹ لائبریری قائم کی مگر آندھرائی حکمرانوں کے تعصب نے اسٹیٹ لائبریری کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے میں کسی قسم کی کسر نہیںچھوڑی۔مسٹر رائو نے تلنگانہ کے دس اضلاع میں ایک مرکزی لائبریری اور علاقائی سطح پر بھی منی لائبریری کے قیام کو ضروری قراردیا تاکہ کتابوں کے ذریعہ تلنگانہ کی تہذیب وتمدن کو نئی نسل میںمنتقل کرنے کا موقع مل سکے۔