حیدرآباد۔19مئی(سیاست نیوز)تلنگانہ کی چار ہزار سالہ قدیم تاریخ کو تعلیمی نصاب میں شامل کرتے ہوئے تلنگانہ کی نوجوان نسل کو واقف کروانے کا حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کرتے ہوئے چیرمن تلنگانہ ریسور س سنٹر مسٹر ایم ویدا کمار نے کہاکہ ساٹھ سالو ں میں تلنگانہ کی تاریخی عمارتوں کے ساتھ آندھرائی حکمرانوں نے متعصبانہ رویہ روا رکھا جس کے نتیجے میں ریاست تلنگانہ کے بے شمار تاریخی مقامات گوشہ گمنامی میں چلے گئے۔ آج یہاں ٹی آر سی دفتر واقع چندرم حمایت نگر میں ورلڈ میوزیم ڈے کے موقع پر تلنگانہ ریسور س سنٹر کی زیراشاعت شائع کردہ پروفیسر اڈاپا ستیہ نارائنہ کی کتاب تلنگانہ کلچرل ہرٹیج کی رسم اجرائی کے موقع پر صدراتی خطاب کے دوران مسٹر ویدا کمار نے کہاکہ پانچ تاریخی پہاڑوں اور سات اے ایس آئی سائیڈس پر مشتمل کتاب کی خصوصیت کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ پروفیسر اے ستیانارائنہ نے آندھرائی دور حکومت میںنذرانداز کئے جانے والے تاریخی مقامات کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں ایک کتاب کی شکل دینے کی کوشش کی ہے جس کی ستائش ناگزیر ہے۔ انہو ں نے کہاکہ تلنگانہ ریاست چار ہزار سالہ قدیم تاریخی مرکز ہے جس کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے حکومت تلنگانہ کی جانب سے سنجیدہ اقدامات ضروری ہیں۔ مسٹر ویدا کمار نے تلنگانہ کو ورلڈ ہرٹیج سائیڈ کا درجہ فراہم کرنے کے لئے حکومت تلنگانہ کی سنجیدہ سعی کو بھی ضروری قراردیا۔ انہوں نے شاتاواہانہ‘ کاکتیہ‘ قطب شاہی اور آصف جاہی دور حکمرانی کو نصاب میںشامل کرنے کا حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیا۔انہوں نے ریاست کے ہر ضلع میں تاریخی کتابوں پر مشتمل ایک لائبریری اور میوزیم تعمیر کرنے کا بھی حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیا تاکہ تلنگانہ کی نوجوان نسل کو تلنگانہ کی تاریخ سے جوڑنے کاکام کیا جاسکے۔ سنجنا بٹلہ نرسیا‘سمندرالہ دھننجئے‘وینکٹیشورلو کے علاوہ دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔