کالی ہرن کے شکار پر مقدمہ ، بیل کو ٹکر پر معاوضہ ، انکاونٹر کے قاتلوں کو سزا ندارد ، احتجاجی جلسہ عام سے دانشوروں کا سخت ردعمل
حیدرآباد ۔ 25 ۔ مئی : ( پریس نوٹ ) : حکومت تلنگانہ آلیر انکاونٹر پر اپنی زبان کھولے اور عام مسلمانوں کو اعتماد میں لیں ۔ آلیر انکاونٹر پر ڈپٹی چیف منسٹر مسلمانوں کے سامنے حکومت سے گفتگو کے بعد حقائق پیش کریں ۔ فوری اثر کے ساتھ 12 پولیس والوں کو معطل کرنے کی ضرورت ہے ۔ مسلمانان تلنگانہ ، ایس آئی ٹی انکوائری کو مسترد کرتے ہیں ۔ سی بی آئی یا برسر خدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ مکہ مسجد بم دھماکوں کے ملزمین کی ضمانت مسترد کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں حکومت رجوع اور بھاسکر راؤ کمیشن کو منظر عام پر لایا جائے ۔ آلیر انکاونٹر کے خلاف حسینی علم بارہ گلی چوراہے پر زبردست جلسہ عام منعقد ہوا ۔ جس کی صدارت مولانا حامد حسین شطاری سنی علماء بورڈ نے کی ۔ جناب محمد مشتاق ملک صدر تحریک مسلم شبان نے ایک قرار داد پیش کی جس کو نعرہ تکبیر کی گونج میں منظور کیا گیا ۔ مولانا نصیر الدین امیر وحدت اسلامی نے جلسہ عام کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک کالی ہرن کے شکار پر مقدمہ دائر کیا جاتا ہے ۔ ایک بیل کو ٹکر دینے پر معاوضہ وصول کیا جاتا ہے مگر 5 مسلم نوجوانوں کے قتل پر ریاست تلنگانہ میں کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ۔ ملک میں مسلمانوں کی جان و مال کے تحفظ کی بات پر کوئی اہمیت نہیں ۔ ظالم حکومت کے خلاف احتجاج مسلمانوں کا جمہوری حق ہے ۔ صدر تحریک مسلم شبان نے کہا کہ 5 مسلم نوجوانوں کے انکاونٹر کے مسئلہ پر تلنگانہ کی سیاسی جماعتیں اور مسلم سیاستداں انصاف کی لڑائی میں ناکام ہوگئے ہیں ۔ پولیس کی جانب سے بہیمانہ قتل کے خلاف حکومت کو ہم قائل کروانے اور مظلومین کے خاندان والوں کو انصاف دلانے میں ناکام ہیں ۔ مسلمان موجودہ صورتحال پر مضطرب ہیں ۔ مسلمانوں کی جانوں کا تحفظ تلنگانہ میں اہم مسئلہ بن کر ابھرا ہے ۔ ظلم کے ساتھ اقتدار نہیں چل سکتا ۔ فرعون ، سدات ، ہٹلر کا بھی خاتمہ ہوا ہے ۔ صالح عمل اور اخلاص کے ساتھ خدمت اللہ کے پاس اجر سے خالی نہیں ہے ۔ ہتکھڑیوں میں باندھے ہوئے نوجوانوں کو پولیس نے منصوبہ بند طریقہ سے قتل کر کے انکاونٹر کا نام دیا ہے ۔ مسلمان احتجاج کو جاری رکھیں گے ۔ جناب عثمان شہید ایڈوکیٹ صدر مسلم فرنٹ نے اس بھاری جلسہ عام کو خطاب کرتے ہوئے سوال کیا کہ کس قانون تحت انکاونٹر کیا گیا ۔ دستور ہند نے ظالم سے ظالم انسان کی بھی جان کی حفاظت کی طمانیت دیتا ۔ آرٹیکل 144 کے تحت انسانی جان کو بڑی اہمیت دی گئی کوئی پولیس والا کسی بھی مجرم کو قتل نہیں کرسکتا ۔ جناب عثمان شہید نے مسلم قیادت کی بے بسی ، اور کمزوری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا حکومت وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی جرت اب ختم ہوگئی ۔ 5 نوجوانوں کو دن کے اجالے میں پولیس انکاونٹر کے نام پر قتل کردیتی ہے اور سیاسی قیادت حکومت سے جواب تک طلب نہیں کرتی ، اتنی بے حسی کیوں ؟ جناب امجد اللہ خاں خالد سابق کونسلر ایم بی ٹی نے کہا کہ حکومت انکاونٹر کو جائز قرار دینے کے لیے ایس آئی ٹی انکوائری کے جی او میں ان کو دہشت گرد قرار دیا ہے ۔ جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں ۔ کسی بھی عدالت نے ان کو دہشت گرد قرار نہیں دیا تھا ۔ پھر حکومت کیسے غیر قانونی طریقہ سے ان کو دہشت گرد قرار دے رہی ہے ۔ امجد اللہ خاں خالد نے کہا کہ چیف منسٹر کے علم کے بغیر پولیس اپنے طور پر اتنا بڑا اقدام نہیں کرسکتی ۔ مسلمانوں کو بیدار ہونے کی ضرورت ہے ۔ اور ملک بھر میں اس انکاونٹر کا نوٹس لیا گیا ہے ۔ مگر حیدرآباد خاموش ہے ۔ مولانا حسین شہید نے کہا کہ ملت کا ضمیر اور احساس کی بڑی اہمیت ہے ۔ مگر بعض طاقتیں حیدرآباد کے ضمیر اور ملی احساس کو ختم کرنے کی گھناونی سازش رچ رہے ہیں ۔ شہر حیدرآباد مظلوموں کی حمایت میں ممتاز رہا ہے مگر آج اپنے شہر کے معصوم بچوں کی مظلومیت کے خلاف آواز نہیں بن سکا ۔ تلنگانہ ریاست اگر حکومت کو اہم مقام و مرتبہ حاصل کرنا چاہتی ہے تو پھر انصاف اور امن کی حکمرانی پیش کرنا چاہئے ۔ ظلم کی بنیاد پر اقتدار دیرپا قائم نہیں رہ سکتا ۔ جناب عثمان الہاجری نے کہا کہ مسلم نوجوانوں کے انکاونٹر پر خاموشی کو جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملت کے مجرم اوقاف کی زمینات کے تحفظ میں بھی ناکام ہیں ۔ مساجد کی موقوفہ جائیدادوں پر عالیشان شادی خانے تعمیر کررہے ہیں ۔ حکومت تلنگانہ مسلمانوں کی ناراضگی اور اضطراب کو ختم کرنے سی بی آئی یا برسر خدمت جج کے ذریعہ آلیر انکاونٹر کی تحقیقات کروائے ۔ صدارتی خطاب میں مولانا سید حامد حسین شطاری سنی علماء بورڈ نے کہا کہ مسلمان بے حس یا مجبور قوم نہیں ہے ۔ ہماری غیرت ہم کو خاموش بیٹھنے نہیں دیتی ۔ سیاسی قیادت کی ناکامی کی وجہ سے ہم جلسے کررہے ہیں ۔ ظلم پورے نظام کو برباد کردیتا ہے ۔ جلسہ کا آغاز قرات کلام پاک سے ہوا ۔ جلسے کے کنوینر عبدالرحیم بیگ ٹیپو نے انتظامات کی نگرانی کی ۔ نظامت جناب الیاس طاہر نے کی ۔ جناب مجاہد ہاشمی عوامی مجلس عمل ، جناب یوسف ہاشمی سکریٹری کانگریس کمیٹی تلنگانہ ، جناب نعیم اللہ شریف نے بھی جلسہ عام کو مخاطب کیا اور 5 مسلم نوجوانوں کے انکاونٹر پر حکومت تلنگانہ کی خاموشی کو مجرمانہ عمل قرار دیا ۔ کنوینر جلسہ عبدالرحیم بیگ ٹیپو نے شکریہ ادا کیا ۔ جلسہ عام میں وقار احمد کے والد جناب محمد احمد بھی شریک تھے ۔ شریک جلسہ عوام انہیں پرسہ دیا ۔۔