حیدرآباد۔12۔نومبر (سیاست نیوز) وزیر آبپاشی ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ آئندہ تین برسوں میں تلنگانہ میں برقی کی قلت پر مکمل طور پر قابو پالیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں برقی کی سربراہی کے موقف کو بہتر بنانے کیلئے حکومت تقریباً 1700 کروڑ روپئے کے خرچ سے ایکشن پلان پر عمل کر رہی ہے۔ ہریش راؤ کے مطابق آئندہ دو برسوں میں حیدرآباد میں برقی کی قلت نہیں رہے گی۔ گھریلو اور صنعتی صارفین کے علاوہ انفارمیشن ٹکنالوجی کے اداروں کو بلا وقفہ برقی کی سربراہی عمل میں آئے گی ۔ قانون ساز کونسل نے وقفہ سوالات کے دوران برقی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے سلسلہ میں ہریش راؤ نے حکومت کے اقدامات کی تفصیل سے وضاحت کی۔ کانگریس کے رکن پی سدھاکر ریڈی کے سوال پر ہریش راؤ نے کہا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے مرکزی حکومت سے برقی کے حصول کی کوششوں کا آغاز کیا ہے۔ اس کے علاوہ پڑوسی ریاست چھتیس گڑھ سے ایک ہزار میگاواٹ برقی خریدی کا معاہدہ کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں برقی کی موثر سربراہی اور زرعی شعبہ کے تحفظ کے لئے 4 ماہ میں برقی خریدی پر 2500 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے۔ برقی کی صورتحال پر کانگریس کے ارکان نے حکومت پر عوام کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی آر ایس حکومت برقی سربراہی اور پیداوار کے سلسلہ میں جو دعوے کر رہی ہے، وہ ناقابل عمل ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ حکومت تلنگانہ میں بعض نئے برقی پراجکٹس کے قیام کا منصوبہ رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت اور این ٹی پی سی سے برقی حاصل کرتے ہوئے آئندہ تین برسوں میں تلنگانہ کو برقی کے شعبہ میں سرپلس اسٹیٹ کا درجہ دیا جائے گا ۔
انہوں نے کہا کہ چندر شیکھر راؤ نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر برقی پیوش گوئل سے ملاقات کے دوران ریاست کی ترقی کیلئے برقی کی ضرورت سے واقف کرایا۔ حیدرآباد میں سربراہی بہتر بنانے سے متعلق ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ حیدرآباد کے برانڈ امیج کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ لاء اینڈ آرڈر برقی اور پانی جیسے بنیادی امور پر توجہ دی جائے۔ حیدرآباد میں انفارمیشن ٹکنالوجی میں سرمایہ کاری کا مرکز قائم ہونے جارہا ہے لہذا حکومت 1500 تا 1700 کروڑ روپئے سے برقی سربراہی بہتر بنانے کے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دو برسوں میں حیدر آباد میں برقی کی کٹوتی ختم ہوجائے گی ۔ اس کے علاوہ زرعی اور صنعتی شعبہ کو بھی مناسب برقی سربراہ کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فصلوں کے تحفظ کیلئے حکومت نے زائد قیمت پر برقی خریدی ہے کیونکہ حکومت کی ترجیح عوامی مسائل کی یکسوئی اور انہیں دشواریوں سے بچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ٹی پی سی دو مرحلوں میں راما گنڈم میں 1600 میگاواٹ صلاحیت والے پراجکٹس کے قیام کا منصوبہ رکھتی ہے۔ دوسرے مرحلہ میں 2400 میگاواٹ برقی کی صلاحیت کا پلانٹ قائم کیا جائے گا ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ آندھراپردیش تنظیم جدید بل میں تلنگانہ کو 4000 میگاواٹ کی حصہ داری دی گئی جس کے حصول کیلئے تلنگانہ حکومت اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ برقی کی صورتحال پر قابو پانے کیلئے صرف تنقیدوں کے بجائے تعمیری تجاویز پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ دریائے کرشنا کے پانی سے برقی کی تیاری کے امکانات کم ہے اور حکومت گوداوری کے پانی کے ذریعہ برقی تیاری کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایچ ای ایل سے 270 میگاواٹ کے 6 برقی پلانٹس کے قیام کا معاہدہ کیا گیا۔