تلنگانہ کیلئے حصول فنڈس پر ٹی آر ایس و بی جے پی میں قربت

خبروں پر تبصرہ نہ کرنے چیف منسٹر کی پارٹی قائدین کو ہدایت ، مرکز و ریاست میں وزراء کی شمولیت کی چہ میگوئیاں
حیدرآباد۔ 18 ۔ فروری (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے پارٹی قائدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ٹی آر ایس اور بی جے پی میں اتحاد سے متعلق خبروں پر تبصرہ سے گریز کریں۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر نے اس سلسلہ میں قریبی رفقاء کے ذریعہ وزراء اور عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں پر تبصرہ سے احتیاط کریں۔ مرکز کی این ڈی اے حکومت میں ٹی آر ایس کی شمولیت سے متعلق اطلاعات پر ریاست میں سیاسی ماحول گرم ہوچکا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس مسئلہ پر حکومت کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ پارٹی کی جانب سے اس مسئلہ پر سختی سے تردید یا پھر بی جے پی کے خلاف اظہار خیال سے گریز کیا جانا چاہئے کیونکہ اس سے تلنگانہ کی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔ چیف منسٹر نہیں چاہتے کہ اس مسئلہ کو مزید طول دیا جائے۔

نئی دہلی میں کے سی آر کی وزیراعظم نریندر مودی سے تنہا ملاقات کے بعد صحافتی حلقوں میں یہ اطلاعات گشت کرنے لگی کہ مرکزی حکومت میں ٹی آر ایس شمولیت اختیار کرے گی۔ بی جے پی کی جانب سے اگرچہ ان اطلاعات کی تردید کی گئی، تاہم دونوں پارٹیوں کے اندرونی حلقوں کا ماننا ہے کہ مستقبل میں بی جے پی اور ٹی آر ایس کے درمیان قربت ہوسکتی ہے۔ ٹی آر ایس کی جانب سے وزیر برقی جگدیش ریڈی اور ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے آج ان اطلاعات کی تردید کی کہ ٹی آر ایس مرکزی حکومت میں شامل ہوگی۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکز میں ٹی آر ایس کے دو وزراء کی شمولیت کے بدلے تلنگانہ وزارت میں بی جے پی کے دو وزیر شامل کرنے کی پیشکش وزیراعظم کو کی گئی۔ ٹی آر ایس بھلے ہی کھلے عام ان اطلاعات کی تردید کرے لیکن چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ تلنگانہ ریاست کو مرکز کی زائد امداد اور فنڈس حاصل کرنے کیلئے بی جے پی سے تعلقات بہتر بنانا ضروری ہے۔ ریاست کی ترقی میں ٹی آر ایس کو اہم خطرہ تلگو دیشم دکھائی دے رہی ہے جو مرکز میں بی جے پی کی حلیف جماعت ہے۔ چندرا بابو نائیڈو کی وزیراعظم سے قربت کے نتیجہ میں کئی اہم امور پر مرکز کا رویہ تلنگانہ کے ساتھ جانبدارانہ ہے۔ مرکز کے رویہ میں تبدیلی کیلئے ٹی آر ایس کے پاس بی جے پی سے قربت کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ اس صورتحال میں فائدہ دونوں پارٹیوں کا ہوگا۔ ایک طرف ٹی آر ایس تلنگانہ میں تلگو دیشم کو قدم جمانے سے روک سکتی ہے تو دوسری طرف بی جے پی کو تلنگانہ میں اپنا موقف مستحکم کرنے کا موقع مل جائے گا اور وہ کانگریس کے بعد دوسری بڑی اپوزیشن جماعت کا موقف اختیار کرنے کی تیاری میں ہے۔ چندر شیکھر راؤ پارٹی قائدین کو اس مسئلہ پر تبصرہ سے روکنے کی اہم وجہ یہ ہے کہ وہ تلنگانہ میں مسلم اقلیت کی ناراضگی مول لینا نہیں چاہتے۔ بی جے پی سے قربت کی صورت میں انہیں اقلیتوں کی تائید سے محروم ہونا پڑسکتا ہے ۔ لہذا اس مسئلہ پر چیف منسٹر محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹی آر ایس کی جانب سے اعلیٰ سطح پر اس سلسلہ میں کوئی تردید نہیں کی جائے گی۔ پارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے مجوزہ انتخابات تک پارٹی بی جے پی سے دوستی کے مسئلہ پر خاموشی اختیار کرے گی۔