تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کا قیام اور مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا اعلان

یونیورسٹیز طلبہ کو بھی فراہمی روزگار کا تیقن ، اسمبلی میں وزیر فینانس کا بیان
حیدرآباد۔/14نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے اعلان کیا کہ بہت جلد علحدہ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کا قیام عمل میں آئے گا اور مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات شروع ہوں گے۔ اسمبلی میں بجٹ پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر فینانس نے ریاست کے تعلیم یافتہ بیروزگار نوجوانوں کیلئے خوشخبری سنائی کہ مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا بہت جلد آغاز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن اور اس کے صدر نشین کا بہت جلد تقرر کرے گی جس کے بعد ملازمتوں پر تقررات کا اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے والے عثمانیہ یونیورسٹی، کاکتیہ یونیورسٹی، پالمور یونیورسٹی، تلنگانہ یونیورسٹی اور مہاتما گاندھی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے علاوہ دیگر اہل اور تعلیم یافتہ طلبہ کو روزگار کی فراہمی میں حکومت سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی وعدہ کے مطابق مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کئے جائیں گے۔ وزیر فینانس نے وضاحت کی کہ غریب، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کی بھلائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ حکومت نے بجٹ میں ان طبقات کی بھلائی کے سلسلہ میں جن اسکیمات کا اعلان کیا ہے ان پر مکمل شفافیت کے ساتھ عمل آوری کی جائے گی۔ راجندر نے کہاکہ اقلیتوں کی تعلیمی و معاشی ترقی سے حکومت کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اقلیتی بہبود کیلئے 1030کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ حکومت بجٹ کے مکمل خرچ اور اسکیمات کے فوائد مستحق افرا دتک پہنچانے میں سنجیدہ ہے۔ انہوں نے غریب اقلیتی لڑکیوں کی شادی کیلئے امداد سے متعلق ’ شادی مبارک ‘ اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غریب لڑکیوں کی شادی پر 51ہزار روپئے امداد دی جائے گی اور یہ ملک میں اپنی نوعیت کی منفرد اسکیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ درج فہرست اقوام و قبائیل کی غریب لڑکیوں کی شادی پر امداد کیلئے کلیان لکشمی اسکیم کا آغازکیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کو تحفظات کی فراہمی کے اپنے ارادہ پر قائم ہے۔ راجندر نے بجٹ کو سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کی سمت پیشرفت اور ترقیاتی بجٹ سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام شعبوں کے سروے اور عوامی ضروریات کا جائزہ لیتے ہوئے بجٹ تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کا پہلا بجٹ عوام کے مسائل اور ان کی ضروریات پر مبنی منصوبہ بند بجٹ ہے اور اس میں دیئے گئے اعداد و شمار قابل عمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ نے عہدیداروں کو واضح ہدایت دی ہے کہ وہ فلاحی اسکیمات پر عمل آوری میں کوئی کوتاہی نہ کریں اور فنڈز کی کمی کبھی مسئلہ نہیں رہے گی۔ غریب خاندانوں کو راشن کارڈ اور وظائف کی اجرائی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر فینانس نے کہا کہ حکومت نے غریب خاندانوں کیلئے فی کس 6کیلو چاول سربراہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ فی الوقت 4کیلو چاول سربراہ کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی غریب اور مستحق خاندان سفید راشن کارڈ سے محروم نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ضعیف، بیواؤں اور معذورین کی معاشی حالت میں سدھار کیلئے حکومت نے وظیفہ کی رقم میں اضافہ کیا ہے۔ بیواؤں اور ضعیفوں کیلئے ماہانہ 1000 روپئے جبکہ معذورین کیلئے 1500 روپئے دیئے جائیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کی کہ وظائف کے سلسلہ میں تلنگانہ حکومت نے 4000کروڑ روپئے مختص کئے ہیں وہ ملک کی کسی بھی ریاست میں وظائف کیلئے مختص کردہ رقم میں سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت حیدرآباد کو بین الاقوامی معیار کے شہر کا درجہ دے گی اور اسے سرمایہ کاری کے مرکز میں تبدیل کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ انفارمیشن ٹکنالوجی، فارما سیوٹیکلس کمپنیوں کے علاوہ سینما اور تعلیم سے متعلق اہم ادارے حیدرآباد میں قائم کئے جائیں گے۔ راجندر نے کہا کہ حیدرآباد کی برانڈ امیج میں اضافہ کرتے ہوئے اسے سلم فری سٹی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں امن وضبط کی صورتحال پر بہتر نگرانی کیلئے پولیس کو عصری سہولتوں سے آراستہ کیا جارہا ہے تاکہ عوام میں تحفظ کا احساس پیدا کیا جاسکے۔ وزیر فینانس نے ایوان کو یقین دلایا کہ آنے والے تین برسوں میں تلنگانہ میں برقی کی سربراہی کا موقف بہتر ہوجائے گا اور تلنگانہ برقی کی تیاری میں خود مکتفی ہوسکتا ہے انہوں نے کہا کہ چھتیس گڑھ سے 1000میگا واٹ برقی کی خریدی کے سلسلہ میں معاہدہ کیا گیا ہے۔