3,841مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر دوران، اسپیشل آفیسر وقف بورڈ جلال الدین اکبر کا سنسنی خیز انکشاف
حیدرآباد۔/19ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اور آندھرا پردیش ریاستوں میں 81,591 ایکر اوقافی اراضیات پر ناجائز قبضے اور 3,841 مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر دوران ہیں۔ سینکڑوں مقدمات ایسے ہیں جن میں وقف بورڈ کی جانب سے عدالتوں میں جوابی حلف نامہ داخل نہیں کیا گیا ان میں بعض مقدمات کی گزشتہ 10برسوں سے وقف بورڈ کی جانب سے کوئی پیروی نہیں کی گئی۔ کروڑہا روپئے مالیتی اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضے اور عدالتوں میں جاری مقدمات کی عدم یکسوئی کے بارے میں سنسنی خیز انکشاف آج اسپیشل آفیسر وقف بورڈ جناب جلال الدین اکبر نے کیا۔ انہوں نے قانونی ماہرین پر مشتمل اڈوائزری کمیٹی کے تعارف کے موقع پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں وقف بورڈ کے وکلاء اور لیگل ڈپارٹمنٹ کی کارکردگی توقع کے مطابق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا علاقہ میں 1616 اوقافی اداروں کے تحت 27ہزار 44 ایکر اراضی موجود ہے جس میں 16,349 ایکر اراضی پر ناجائز قبضے ہیں جبکہ رائلسیما میں 1930 اوقافی اداروں کے تحت 40929 ایکر اراضی موجود ہے جس میں 7818 ایکر اراضی پر ناجائز قبضے ہیں جبکہ تلنگانہ میں 32157 اوقافی اداروں کے تحت 77538 ایکر اراضی موجود ہے جس میں 57423 ایکر اراضی پر ناجائز قبضے ہیں۔ اس طرح دونوں ریاستوں میں مجموعی طور پر 81591 اوقافی اراضیات پر ناجائز قبضے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اوقافی جائیدادوں سے متعلق 3841مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر دوران ہیں جس میں سپریم کورٹ(30)، ہائی کورٹ (1628)، وقف ٹریبونل (1912)، ڈسٹرکٹ اینڈ منصف کورٹس (185)اور دوسری عدالتوں میں 86مقدمات زیر دوران ہیں۔ ہائی کورٹس اور وقف ٹریبونل میں بورڈ کی طرف سے 6-6 اسٹینڈنگ کونسلس ہیں اس کے علاوہ بعض اہم مقدمات کے سلسلہ میں سینئر وکلاء کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں انہیں ہائی کورٹ نے طلب کرتے ہوئے وقف بورڈ کی جانب سے حلف نامے داخل نہ کئے جانے کی جانب توجہ دلائی۔ کئی مقدمات میں دس برسوں سے جوابی حلف نامہ داخل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جج نے انہیں بتایا کہ بعض مقدمات میں وقف بورڈ کے وکیل پیشی کے دن حاضر نہیں رہتے۔ جوابی حلف ناموں کے ادخال میں تساہل اور تاخیر کے سبب وقف بورڈ کو کئی قیمتی جائیدادوں سے ہاتھ دھونا پڑ رہا ہے۔ جناب جلال الدین اکبر نے بتایا کہ جوابی حلف ناموں کے ادخال کے سلسلہ میں کی گئی مساعی کے سبب حلف ناموں کے ادخال کی رفتار میں تیزی آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بعض سینئر وکلاء نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات کا پیشکش کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ قانونی مشاورتی کمیٹی کی تشکیل کے بعد اوقافی جائیدادوں کے مقدمات کی یکسوئی میں بہتری پیدا ہوگی اور اہم و قیمتی اوقافی جائیدادوں کا تحفظ ہوپائے گا۔