تلنگانہ میں 11 نومبر کو یوم اقلیتی بہبود نہیں ہوگا

انتخابی ضابطہ اخلاق کا بہانہ، آندھراپردیش میں تقاریب کا انعقاد
حیدرآباد ۔ 8 ۔ نومبر (سیاست نیوز) ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کو 11 نومبر ان کی یوم پیدائش کے موقع پر تلنگانہ حکومت خراج پیش نہیں کرے گی۔ انتخابی ضابطہ اخلاق کے سبب محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے 11 نومبر کو یوم اقلیتی بہبود اور یوم قومی تعلیم کا اہتمام نہیں کیا جائے گا ۔ دوسری طرف آندھراپردیش میں انتخابی سرگرمیاں نہیں ہیں اور وہاں کے محکمہ اقلیتی بہبود نے یوم اقلیتی بہبود تقاریب منانے کا اعلان کیا ہے۔ مولانا آزاد کے یوم پیدائش کو ملک بھر میں یوم قومی تعلیم کے طور پر منایا جاتا ہے اور تلنگانہ میں گزشتہ چار برسوں سے یہ سلسلہ جاری رہا ۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے اس تقریب کے انعقاد کی ذمہ داری اقامتی اسکول سوسائٹی کو دی تھی۔ ہر سال سوسائٹی کی جانب سے بڑے پیمانہ پر یوم اقلیتی بہبود منایا گیا جس میں مولانا ابوالکلام آزاد قومی ایوارڈ اردو کی کسی نامور شخصیت کو پیش کیا جاتا رہا۔ یہ ایوارڈ اردو اکیڈیمی کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ جاریہ سال انتخابی سرگرمیوں کے سبب سرکاری سطح پر تقریب کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کے موجودہ سکریٹری اور اقلیتی اداروں کے عہدیدار تقریب کے انعقاد کے خلاف ہیں کیونکہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی صورت میں یہ تقریب اقلیتوں کو رجھانے کا سبب بن سکتی ہے۔ انتخابی ضابطہ اخلاق کے سبب کسی بھی محکمہ کو اسکیمات سے متعلق تقریب منعقد کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ اگر یوم اقلیتی بہبود منایا گیا ، تب بھی کوئی سیاسی قائد یا عوامی نمائندے شرکت نہیں کرسکتے۔ صرف عہدیدار شریک ہوں، تب بھی انہیں حکومت کی اسکیمات کے بارے میں کہنا پڑے گا۔ لہذا محکمہ نے جاریہ سال تقریب کو ڈسمبر تک ٹالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یوم اقلیتی بہبود میں دیا جانے والا قومی ایوارڈ ایک لاکھ 25 ہزار روپئے پر مشتمل ہے جس کی رقم میں اضافہ کرتے ہوئے دو لاکھ 25 ہزار کیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ اردو اکیڈیمی انتخابات کے بعد یوم اقلیتی بہبود منعقد کرتے ہوئے مولانا آزاد قومی ایوارڈ کے علاوہ بیسٹ اردو ٹیچر اور بیسٹ اردو اسٹوڈنٹس ایوارڈس پیش کرے گی۔ آندھراپردیش میں یوم اقلیتی بہبود تقریب 11 نومبر کو میونسپل اردو ہائی اسکول کڑپہ میں منعقد ہوگی جس میں مولانا آزاد ایوارڈ کے علاوہ ڈاکٹر عبدالحق ایوارڈ ، کارنامۂ حیات ایوارڈس ، بیسٹ اردو ٹیچر اور بیسٹ اردو اسٹوڈنٹس ایوارڈ پیش کئے جائیں گے۔ ڈاکٹر ایس ایم ڈی نعمان صدرنشین اردو اکیڈیمی صدارت کریں گے جبکہ صدرنشین قانون ساز کونسل این محمد فاروق مہمان خصوصی ہوں گے ۔ ریاستی وزراء کے علاوہ آندھراپردیش کے عوامی نمائندے تقریب میں شرکت کریں گے۔ اردو اکیڈیمی آندھراپردیش میں ایک سمپوزیم شامِ غزل اور کل ہند مشاعرے کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔