چیف منسٹر کی سرکاری رہائش گاہ ٹی آر ایس آفس میں تبدیل
حیدرآباد۔11 اپریل (سیاست نیوز) جنرل سکریٹری اے آئی سی سی انچارج تلنگانہ آر سی کنتیا نے دعوی کیا کہ تلنگانہ میں کانگریس کو 10 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوگی۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کنتیا نے کہا کہ ریاست بھر میں 65.7 فیصد رائے دہندوں نے اپنے حق کا استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے وسط مدتی انتخابات میں ٹی آر ایس نے ای وی ایم مشینوں میں دھاندلیوں کے ذریعہ کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس مرتبہ کانگریس کی چوکسی کے سبب دھاندلیوں کا موقع نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ رائے دہی کے مراکز پر بنیادی سہولتوں کی کمی سے متعلق شکایات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹ اور گنتی میں شمار کیئے گئے ووٹ کی تعداد میں کافی فرق رہا۔ نظام آباد کا حوالہ دیتے ہوئے کنتیا نے کہا کہ وہاں بیلٹ پیپر کے ذریعہ رائے دہی ضروری تھی لیکن الیکشن کمیشن نے ہر بوتھ پر 12 ای وی ایم مشینوں کو رکھتے ہوئے عوام کے لیے دشواریاں پیدا کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے موقع پر کے سی آر کی زندگی پر فلم کی ریلیز سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ الیکشن کمیشن کس طرح فلم کی ریلیز کی اجازت دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا کوئی موقع نہیں گنوایا اور الیکشن کمیشن نے ریاستی حکومت کی ہر طرح سے مدد کی ہے۔ حکومت کی جانب سے انتخابی بے قاعدگیوں کی شکایات پر الیکشن کمیشن نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ کے سی آر نے سرکاری رہائش گاہ پرگتی بھون کو پارٹی دفتر میں تبدیل کردیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ کنتیا نے کہا کہ راہول گاندھی کا وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہونا یقینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے مقابلے لوک سبھا انتخابات میں رائے دہی کے فیصد میں کمی الیکشن کمیشن کی ناکامی کا ثبوت ہے۔