بلدی انتخابات کے حیرت انگیز نتائج ‘ تلنگانہ میں کانگریس 23 اور سیما آندھرا میں تلگودیشم کو 65بلدیات پر کامیابی
حیدرآباد۔12مئی( سیاست نیوز)تلنگانہ اور سیما آندھرا میں بلدیات اورکارپوریشن انتخابات کے نتائج حیرت انگیز رہے ۔ تلنگانہ میں جہاں کانگریس کو زبردست کامیابی ملی وہیں سیما آندھرا میں صفایا ہوگیا اور تلگودیشم پارٹی نے شاندار مظاہرہ کیا ۔ وائی ایس آر کانگریس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ مجالس مقامی کے نتائج نے ٹی آر ایس حلقوں میں مایوسی پیدا کردی ہے ۔ تلنگانہ میں 53مجالس مقامی اداروں کے انتخابات ہوئے اور تمام کے نتائج کا اعلان کردیا گیا ۔ان میں کانگریس نے 23 پر کامیابی حاصل کی ‘ ٹی آر ایس کو 9اور تلگودیشم کو 11پر کامیابی ملی جبکہ دیگر نے 10پر کامیابی حاصل کی ۔ اس طرح سیما آندھرا کے 92مجالس مقامی اداروں کے انتخابات میں 65پر تلگودیشم نے کامیابی حاصل کی ‘ 20پر وائی ایس آر کانگریس نے کامیابی حاصل کی 7کا فیصلہ معلق رہاجبکہ کانگریس یہاں کھاتہ بھی نہیں کھول پائی ۔ اس طرح تلنگانہ کے 1000وارڈس میں کانگریس 525 پر کامیابی کے ساتھ سرفہرست رہی ‘ ٹی آر ایس نے 313 کے ساتھ دوسرا اور تلگودیشم 162 وارڈس پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے تیسرا مقام حاصل کیا ۔ سیما آندھرا میں 2353 وارڈس کے منجملہ تلگودیشم 1446 پر کامیابی حاصل کی ۔ وائی ایس آر کانگریس کو 852 اورکانگریس کو 55وارڈس پرکامیابی ملی ۔ ووٹوں کی گنتی کے آغاز کے ساتھ ہی ٹی آر ایس اور کانگریس نے اپنی اپنی کامیابی کا دعویٰ کیا۔ تاہم ابتداء سے ہی کانگریس نے سبقت برقرار رکھی ۔ نتائج کے اعلان کے بعد کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ اسمبلی اور لوک سبھا کی نشستوں کے نتائج بھی اس کے حق میں ہوں گے اور کانگریس تلنگانہ میں تشکیل حکومت کے موقف میں رہے گی جبکہ ٹی آر ایس کا کہنا ہے کہ پارٹی نے مجالس مقامی کے انتخابات پر زیادہ توجہ مرکوز نہیں کی، تاہم اسے یقین ہے کہ اسمبلی اور لوک سبھا کی زائد نشستوں پر عوام اسے کامیاب کریں گے۔ ٹی آر ایس ہیڈکوارٹر تلنگانہ بھون میں پارٹی کے سینئر قائدین نتائج پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھے۔ ابتداء میں پارٹی کارکنوں نے جشن کی تیاری کی، تاہم کانگریس کو سبقت کے بعد جشن منانے کا منصوبہ ترک کردیا گیا۔ ٹی آر ایس سربراہ چندر شیکھر راؤ نے پارٹی کے سینئر قائدین کے ساتھ انتخابی نتائج کا جائزہ لیا اور امید ظاہر کی کہ مجالس مقامی کے نتائج سے اسمبلی اور لوک سبھا کے نتائج مختلف ہوں گے ۔ بتایا جاتا ہے کہ چندر شیکھر راؤ نے قائدین سے کہا کہ مجالس مقامی انتخابات میں عوام کی ترجیحات مختلف ہوتی ہے جبکہ اسمبلی اور لوک سبھا کیلئے تلنگانہ ریاست کی ترقی اہم موڑرہی۔ ان کا کہنا ہے کہ تلنگانہ ریاست حاصل کرنے میں اہم رول ادا کرنے والی پارٹی تلنگانہ میں پہلی حکومت قائم کرے گی ۔ پارٹی قائدین بھلے ہی کامیابی کے دعوے کرے کیونکہ کارکنوں میں مایوسی دیکھی گئی۔ دوسری طرف سیما آندھرا کے نتائج سے تلگو دیشم پارٹی کے حوصلے بلند ہیں اور پارٹی ہیڈکوارٹر این ٹی آر ٹرسٹ بھون پر کارکنوں نے زبردست جشن منایا۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی اور بی جے پی کو نتائج سے کسی قدر مایوسی ہوئی ہے۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی ابھی بھی سیما آندھرا میں تشکیل حکومت کے بارے میں پرامید ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ کم وقفہ کے دوران منعقد ہ مجالس مقامی اور اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات کے باعث رائے دہندوں کا رجحان تقریباً یکساں دیکھا جائے گا اور اسمبلی اور لوک سبھا کے نتائج بھی اسی طرز پر ہوسکتے ہیں۔ سیاسی مبصرین نے تلنگانہ میں معلق اسمبلی کی پیش قیاسی کی ہے جبکہ سیما آندھرا میں تلگو دیشم اور وائی ایس آر کانگریس کے درمیان کانٹے کی ٹکر ہوگی۔