حیدرآباد ۔ 10 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں گورنر کے خطبہ پر پیش کردہ تحریک تشکر کو مباحث کے مکمل ہونے کے بعد آج شب منظوری دیدی گئی ۔ ایوان میں تحریک تشکر پر دو دن سے ہوئے مباحث کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راو نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تلنگانہ ریاست ملک بھر میں گجرات کے بعد دوسری فاضل آمدنی والی ریاست ثابت ہوئی ہے۔ جیسا کہ وہ سابق میں کہتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علحدح ریاست تلنگانہ جدوجہد کے موقع پر ہمیشہ یہ کہتے رہے کہ تلنگانہ کی دولت کو آندھرائی عوام لوٹ رہے ہیں اور جب ریاست تلنگانہ کی تشکیل عمل میں آئے گی تب ان حقائق کا تلنگانہ عوام کو پتہ چلے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح ان کا یہ دعویٰ آج صبح ثابت ہورہا ہے ۔ چیف منسٹر نے اپوزیشن جماعتوں کی حکومت پر مباحث کے دوران کی گئی تنقید کا بہت ہی موثر انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بہر صورت اپنے پروگراموں و پالیسیوں (فلاح و بہبودی اقدامات) پر عمل آوری کرے گی ۔ تاہم اس کیلئے مزید کچھ وقت ضرور درکار ہوگا۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ ریاست تلنگانہ کو توقع کے مطابق 60 ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی حاصل ہوئی ہے جبکہ سرکاری اراضیات کو فروخت کرنے کے پروگرام کو روک دیا گیا ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ حکوت نے سرکاری اراضیات کو فروخت کر کے حکومت کی آمدنی میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اراضیات سے بھاری رقومات حاصل نہ ہونے کے پیش نظر اراضیات کی فروختگی پروگرام کو روک دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست تلنگانہ اپنی فاصل آمدنی کے ذریعہ آئندہ پانچ سال میں 6 لاکھ کروڑ روپئے خرچ کرنے کے موقف میں رہے گی جس میں 3.75 لاکھ کروڑ روپئے نان پلان کے تحت اور 2.25 لاکھ کرو ڑ روپئے پلان کے تحت خرچ کئے جائیں گے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ان کی حکومت غریب عوام کی فلاح و بہبود پر اولین ترجیح دے گی اور اس سلسلہ میں 842 کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے ۔ اراصیات پر غیر مجاز قبضوں کو باقاعدہ بنانے کے مسئلہ پر اپوزیشن جماعتوں کی تنق یدوں کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت اس سلسلہ میں ا قدامات کا آغاز کرچکی ہے ۔ جی او 58 کے تحت حکومت کو 3.36 لاکھ درحواستیں وصول ہوئی ہیں اور ان تمام وصول شدہ درخواستوں سے متعلق اراضیات کو باقاعدہ بنایا جائے گا ۔ اسی طرح جی او 59 کے تحت حکومت کو جملہ 1,33,000 درخواستیں وصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے غریب معمرین کیلئے دے ئے جانے والے پنشن کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں فی ا لوقت 30.76 لاکھ افراد کو وظائف دیئے جارہے ہیں جس سے حکومت پر 4000 کروڑ روپئے کے مصارف عائد ہورہے ہیں ۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے د ھرنا پروگرام منظم کروائے جانے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ دھرنا کروانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ درخواستیں پیش کروانے پر فائدہ ضرور ہوگا۔ چیف منسٹر نے مسلم افراد کو دیئے جانے والے وظائف کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں فی الوقت 2,43,613 مسلمانوں کو وظائف دیئے جارہے ہیں جو کہ ریاست کی جملہ آبادی کا 8 فیصد ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے بعض اسکیمات سے حاصل ہونے والے فنڈز میں کمی کا تذکرہ کرتے ہوئے مسٹر چندر شیکھر راو نے فنڈز میں کمی کرنے کے با وجود حکومت کمی کئے ہوئے فنڈز کو ریاستی حکومت کی جانب سے برداشت کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ آنگن واڑی ورکرس کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ حکومت طلباء کے میس چارجس و دیگر اشیاء کیلئے دیئے جانے والے رقومات میں اضافہ کرنے کا واضح تیقن دیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت کے جی تا پی جی پروگرام پر بہر صورت موثر عمل آوری کرے گی لیکن اس کیلئے وقت درکار ہوگا ۔ مسٹر چندر شیکھر راؤ نے انجنیئرنگ الجوں کو برخواست کرنے کے حکومت پر عائد کردہ الزام پر کہا کہ انجنیئرنگ کی تکمیل سے ریاست کا م قام اونچا نہیں ہورہا ہے بلکہ ریاست کا وقار متاثر ہورہا ہے کیونکہ ان کالجوں کا کوئی معیار ہی نہیں ہے ۔ علاوہ ازیں جعلی تعلیمی صداقتناموں میں ریاست بالخصوص شہر حیدرآباد ملک بھر میں کافی شہرت رکھتا ہے ۔ دہلی میں ملک بھر سے 100 صداقتنامے جانچ کئے جاتے ہیں تو ان میں حیدرآباد سے جاری کردہ جعلی صداقتناموں کی تعداد 70 ہوا کرتی ہے۔ اس طرح ریاست کا وقار متاثر ہورہا ہے ۔ جعلی صداقتناموں کی اجرائی کے سلسلہ میں تین ٹولیوں کو بھی پولیس گرفتار کیا ہے ، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے ریاست میں فرضی انجنیئرنگ کالجس کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا اور کہا کہ ایک لکچرر کا تقرر سات کالجوں میں پایا جاتا ہے ۔ اس طرح کسی کالجس میں قابل لکچررس نہیں پائے جارہے ہیں جس کی وجہ سے تنقیح کے دوران فرضی لکچررس کے پائے جانے کی وجہ سے کالجس کو برخواست کرلینے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر ٹرانسپورٹ مسٹر پی مہیندر ریڈی کے قائم کردہ ایک انجنیئرنگ کالج کو بھی برخواست کیا گیا ہے ۔ اس سلسلہ میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں کی جارہی ہے ۔ لہذا تمام اپوزیشن جماعتوں سے تعلیمی معیار میں بہتری لانے کیلئے حکومت سے بھر پور تعاون کرنے کی اپیل کی۔ ریاست میں مختلف محکمہ جات میں تقررات کملا ناتھن کمیٹی کی قطعی رپورٹ کے بعد عمل میں لائے جائںے گے اور اس طرح کے آئندہ دو سال کے دوران ایک لاکھ جائیدادوں پر تقررات عمل میں لاتے ہوئے تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان کو درخواستیں فراہم کی جائیں گی ۔ تلنگانہ ریاست میں فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم پر موثر عمل آوری کی جائے گی ۔ دواخانوں کی حالت میں بہتری پیدا کرنے کے اقدامات کئے جا ئیں گے اور 108 و 104 ء سرویسز کی تعداد میں ا ضافہ کر کے 1000 کئے جارہے ہیں ۔ چیف منسٹر نے آئندہ ماہ مارچ کے بعد کسانوں کو بلا وقفہ 9 گھنٹے برقی فراہمی کا اعلان کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ چیف سکریٹری ، ڈائرکٹر جنرل پولیس و پرنسپال سکریٹریز کیلئے عصری سہولتوں سے آراستہ علحدہ نئی قیامگاہیں تعمیر کرنے ، تمام مح کمہ جات کو ایک جگہ کرنے کیلئے بہر صورت بنا سکریٹریٹ تعمیر کرنے کا اعادہ کیا اور کہا کہ اس کے لئے بجٹ میں 200 کروڑ روپئے مختص کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے جوبلی ہال کا تذکرہ کرتے ہوئے سابق حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایک جوبلی ہال بند ہوجانے کی وجہ سے آج حکومت کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایک جوبلی ہال بند ہوٹلس کا رخ اختیار کرنا پڑ رہا ہے ۔ لہذا حکومت اس سلسلہ میں موثر اقدامات کرے گی ، اس کے علاوہ رویندر بھارتی کے طرز پر تمام تر پروگراموں کے انعقاد کیلئے ایکس انتہائی خوبصورت وسیع و عریض عصری سہولتوں سے آراستہ ’’تلنگانہ کلا بھارتی‘‘ عمارت تعمیر کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نظام شوگر فیکٹریز کو حکومت بہرصورت حاصل کرے گی اور بعد ازاں ان کو کسانوں کے حوالے کئے جائیں گے۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے عثمانیہ یونیورسٹی طلباء کے سات کروڑ روپئے میس چارجس کو معاف کرنے کا اعلان کیا ۔ انہوں نے شہر حیدرآباد میں جائیداد ٹیکس میں من مانی اضافہ کے مسئلہ پر کہا اکہ وہ اضافہ کیلئے بلدیہ حیدرآباد کو کوئی ہدایت تو نہیں دی ہے ۔ تاہم اس سلسلہ میں کمشنر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن سے بات کرنے کا تیقن دیا اور کہا کہ جب وہ ممبئی کا حالیہ دنوں میں دورہ کیا تھا تب ممبئی میونسپل کارپوریشن کے بجٹ سے متعلق واقفیت حاصل کرنے پر انہیں پتہ چلا کہ 32 ہزار کروڑ روپئے ہے ۔ بعد مزید اس میں 4 ہزار کروڑ کے اضافہ کی توقع ہے ۔ لہذا اس بات کا انہوں نے عہدیداروں کے ساتھ منعقدہ اجلاس کے موقع پر تذکرہ کیا تھا ۔ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کے عہدے مخلوعہ رہنے کے تحت سے کہا کہ سابق وائس چانسلروں نے کئی بے ضابطگیاں کرنے سینکڑوں تقررات کئے ۔ لہذا ان تمام کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم حکومت بہت جلد اتنے وائس چانسلروں کا تقرر عمل میں لانے کیلئے اقدامات کرے گی ، چیف منسٹر نے بالخصوص راج بھون کے روبرو واقع مقطعہ مدار صاحب کی اراضیات پر قبضوں کو باقاعدہ بنانے کیلئے ارکان اسمبلی کے ساتھ اجلاس منعقد کر کے بعد مشاورت قوانین میں ترمیم کے ذریعہ ان غیر مجاز قبضوں کو باقاعدہ بنانے پر غور کرنے کا تیقن دیا۔