تلنگانہ میں ٹی آر ایس کا شاندار مظاہرہ ۔ 63 اسمبلی و 11 لوک سبھا نشستوں پر کامیابی

تلنگانہ میں ٹی آر ایس کا شاندار مظاہرہ ۔ 63 اسمبلی و 11 لوک سبھا نشستوں پر کامیابی
کانگریس کو اسمبلی کی 20 اور تلگودیشم بی جے پی اتحاد کو 21 نشستوں پر کامیابی ۔ مجلس کا حیدرآباد لوک سبھا اور 7 اسمبلی حلقوں پر قبضہ برقرار

حیدرآباد 16 مئی ( سیاست نیوز ) تلنگانہ میں ٹی آر ایس نے اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے تقریبا تمام جماعتوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور وہ 2 جون کو وجود میں آنے والی تلنگانہ ریاست کی پہلی حکومت تشکیل دینے کی تیاریوں میں جٹ گئی ہے ۔ پارٹی نے تلنگانہ میں شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے اسمبلی کی 63 اور لوک سبھا کی 11 نشستوں سے کامیابی حاصل کی ہے ۔ تلنگانہ کی اسمبلی 119 ہوگی اور تشکیل حکومت کیلئے 60 ارکان کی تائید ضروری ہوگی ۔ ٹی آر ایس کے 63 ارکان اسمبلی کامیاب ہوئے ہیں اس طرح اسے تلنگانہ میں پہلی حکومت تشکیل دینے کسی کی تائید کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ ٹی آر ایس کے تمام اہم قائدین نے شاندار کامیابی حاصل کی ہے ۔ پارٹی سربراہ کے چندر شیکھر راؤ حلقہ اسمبلی گجویل کے علاوہ حلقہ لوک سبھا میدک سے بھی ریکارڈ اکثریت سے کامیاب ہوچکے ہیں۔ تلنگانہ میں کانگریس پارٹی نے اسمبلی کی صرف 20 نشستوں پر کامیابی درج کی ہے جبکہ اسے لوک سبھا کی ایک ہی نشست مل سکی ہے ۔ سارے تلنگانہ میں صرف حلقہ لوک سبھا نلگنڈہ میں پارٹی کے امیدوار سکھینڈر ریڈی ہی کامیابی حاصل کرسکے ہیں۔ پارٹی کے تمام بڑے قائدین کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جن میں ریاستی اور مرکزی وزرا بھی شامل ہیں۔ تلنگانہ میں تلگودیشم ۔ بی جے پی اتحاد نے بھی خاطر خواہ مظاہرہ کیا ہے اور اس اتحاد نے اسمبلی کی 21 نشستوں سے کامیابی حاصل کرلی ہے ۔ بائیں بازو کی جماعتوں کو دو نشستوں پر کامیابی ملی ہے جبکہ مجلس نے حیدرآباد شہر میں اپنے سابقہ ساتوں اسمبلی حلقوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھا ہے ۔ اس کے امیدواروں نے اچھی اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے ۔ لوک سبھا حلقہ حیدرآباد سے مجلس کے امیدوار اسد الدین اویسی نے دو لاکھ سے زیادہ ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے اس نشست پر اپنا قبضہ برقرار رکھا ہے ۔ لوک سبھا حلقوں میں ٹی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ کی دختر کے کویتا نے نظام آباد سے شاندار کامیابی حاصل کی ہے ۔ ضلع نظام آباد میں تمام اسمبلی حلقوں پر ٹی آر ایس کو کامیابی ملی ہے ۔ حلقہ اسمبلی ناگر کرنول پر ٹی آر ایس نے اپنا قبضہ برقرار رکھا ہے ۔ ظہیر آباد لوک سبھا حلقہ سے ٹی آر ایس امیدوار بی بی پاٹل نے اپنے قریبی حریف کانگریس امیدوار سریش کمار شٹکار کو 144631 ووٹوں سے شکست دے کر کامیابی حاصل کرلی ہے ۔

ضلع ورنگل میں کانگریس پارٹی کو شدید نقصان ہوا ہے ۔ ضلع کے 12 اسمبلی حلقوں میں 8 پر ٹی آر ایس کامیاب ہوئی ہے جبکہ دو پر تلگودیشم نے اور ایک پر کانگریس نے کامیابی حاصل کی ہے ۔ ایک حلقہ سے آزاد امیدوار کامیاب رہے ہیں۔ بودھن میں ٹی آر ایس کے ٹکٹ پر مسلم امیدوار محمد شکیل عامر نے کامیابی حاصل کی ۔ انہوں نے کانگریس امیدوار پی سدرشن ریڈی کو 15884 ووٹوں سے شکست دے کر کامیابی حاصل کی ۔ تلگودیشم تیسری نمبر پر رہی ۔ چندر شیکھر راؤ نے میدک میں شاندار کامیابی حاصل کی ۔ انہوں نے جملہ 657492 ووٹ حاصل کئے اور کانگریس امیدوار کو 250463 ووٹ حاصل ہوئے ۔ اس طرح چندر شیکھر راؤ کو تقریبا پانچ ہزار ووٹوں سے کامیابی حاصل ہوئی ۔ کاما ریڈی میں کانگریس امیدوار و سابق ریاستی وزیر محمد علی شبیر کو ٹی آر ایس امیدوار گمپا گودرھن ریڈی کے خلاف 8,683 ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ ٹی آر ایس لوک سبھا امیدواروں میں چندر شیکھر راؤ اور کویتا کے علاوہ کریمنگر سے بی ونود کمار اور چیوڑلہ حلقہ سے وشویشور ریڈی نے بھی کامیابی حاصل کرلی ۔ محبوب نگر حلقہ میں مرکزی وزیر جئے پال ریڈی کو اور محبوب آباد میں مرکزی وزیر بلرام نائک کو شکست ہوئی ہے ۔ یہاں بھی ٹی آر ایس نے کامیابی حاصل کی ہے ۔ لوک سبھا میں تلگودیشم اور بی جے پی کو ایک ایک لوک سبھا حلقہ سے کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ سینئر بی جے پی لیڈر بنڈارو دتاتریہ کو سکندرآباد حلقہ سے کامیابی ملی ہے ۔ انہوں نے کانگریس کے موجودہ رکن انجن کمار یادو کو شکست دیدی ۔ کلواکرتی لوک سبھا حلقہ کے نتیجہ کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا ہے ۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں کانگریس پارٹی ایک بھی نشست پر کامیابی حاصل نہیں کرسکی ہے اور یہاں سے اس کا مکمل صفایا ہوگیا ہے ۔ تلگودیشم نے یہاں بہتر مظاہرہ کیا ہے ۔