تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت کا اقلیتی طبقات کیلئے جامع منصوبہ

رکن پارلیمان کویتا کی زیرقیادت ہاس انڈیا کے وفد کی مرکزی وزیر نجمہ ہپت اللہ سے ملاقات
حیدرآباد۔18 اگست(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کے اقلیتوں کو درپیش مسائل کے متعلق ایچ اے ایس انڈیا کے ایک وفد نے رکن پارلیمان نظام آباد شریمتی کالوا کنٹلہ کویتا کی قیادت میں مرکزی وزیراقلیتی بہبود نجمہ ہپت اللہ سے ملاقات کرکے انہیںایک یادواشت پیش کی۔ وفد میںشامل صدر ایچ اے ایس انڈیا مولانا طارق قادری‘ جنرل سیکریٹری مولانا سید عبدالقادر قادری وحید پاشاہ کے علاوہ مولانا سید حسین پاشاہ بھی موجود تھے۔ تلنگانہ اور آندھرا کے علیحدہ اوقاف بورڈ کا قیام‘ تلنگانہ کے وقف اراضیات کے متعلق سابق میں پیش آئی دھاندلیوں کی سی بی آئی تحقیقات‘ اقلیتی اداروں میں من مانی فیس وصولی اور تلنگانہ کے موذنین اور اماموں کو حکومت کی جانب سے تنخواہوں کی عاجلانہ فراہمی کیلئے وفد نے مرکزی وزیر سے نمائندگی کی۔شریمتی کویتا نے مرکزی وزیر سے بات چیت کے دوران کہاکہ تلنگانہ حکومت اپنی ریاست کے اقلیتی طبقات کی ترقی کیلئے جامع منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ کروڑ ہا روپیو ںکے اوقافی املاک متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے وقت تباہی کے دہانے پر پہنچادیئے گئے ۔ انہوں نے لینکو ہلز کی اس موقع پر مثال پیش کی اور کہاکہ 10 ہزار کروڑ سے زیادہ کی قیمتی وقف اراضی آندھرائی سرمایہ داروں کے قبضے میں اسی طرح تلنگانہ کے مختلف مقامات پر آندھرائی قائدین اور سرمایہ داروں نے وقف اراضیات کو اپنی ذاتی جائیدادوں میں تبدیل کردیا ہے۔انہوں نے کہاکہ اوقافی جائیدادوں کی بازیابی تلنگانہ کی عوام کے مسلمانوں کی حالت کو بدلنے میںمددگار اقدام ثابت ہوگا۔شریمتی کویتا نے بتایا کہ تلنگانہ حکومت( تلنگانہ راشٹریہ سمیتی) نے اپنے انتخابی منشور میںریاست کے اقلیتی طبقات کو بارہ فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا جس پر عمل آوری کیلئے سنجیدگی سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے تلنگانہ حکومت کی جانب سے ریاست کے اقلیتی طبقات کیلئے مختص کئے گئے ایک ہزار کروڑ کے بجٹ کا بھی اس موقع پر ذکر کیا اور کہاکہ متحدہ ریاست آندھرا پردیش میںاقلیتوں کیلئے بجٹ کو جاری کیا جاتا تھا مگر خرچ کرنے اور اقلیتی طبقات تک رقم کو پہنچانے میں کوتاہیوں کے سبب 100کروڑ بجٹ حکومت کو واپس بھی کردیا جاتا تھا مگر موجود ہ تلنگانہ حکومت نہ صرف اقلیتوں کیلئے بجٹ جاری کرے گی بلکہ اقلیتو ں کی فلاح وبہبود کیلئے نئی اسکیمات اور بجٹ کی صدفیصد رقم خرچ کرنے کی بھی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔مرکزی وزیراقلیتی اُمور نجمہ ہپت اللہ نے بھی مثبت تاثرات پیش کرتے ہوئے تلنگانہ کی وقف جائیدادوں کی تفصیلات فراہم کرنے کیلئے علاوہ وفد کی جانب سے کی گئی نمائندگیوں پر مرکز کی جانب سے عنقریب فیصلے لینے کا تیقن دیا۔