ٹی آرا یس ، تلگو دیشم اور کانگریس قائدین حیرت زدہ ، تلنگانہ میں جگن کے حوصلے بلند
حیدرآباد ۔ 10۔ مارچ (سیاست نیوز) آندھراپردیش کی تقسیم کی مخالفت کے باعث وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو اگرچہ تلنگانہ میں بعض اہم قائدین سے محروم ہونا پڑا تاہم ریاست کی تقسیم کے بعد تلنگانہ علاقہ میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے تلگو دیشم ، ٹی آر ایس اور کانگریس قائدین حیرت میں ہیں۔جگن موہن ریڈی نے گزشتہ ہفتہ کھمم میں ایک بڑی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے تلنگانہ میں پارٹی کی مہم کا عملاً آغاز کردیا۔ اگرچہ تلنگانہ جے اے سی اور دیگر تنظیموں نے جگن کے دورہ کے موقع پر بند کا اعلان کیا تھا ، اس کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں عوام جگن موہن ریڈی کو سننے کیلئے ریالی میں شریک ہوئے۔ تلنگانہ میں جگن کے قدم رکھتے ہی ایک طرف وائی ایس آر کانگریس پارٹی قائدین اور کارکنوں کے حوصلے بلند ہوگئے تو دوسری طرف تلنگانہ میں بہتر مظاہرہ کی امید کرنے والی ٹی آر ایس ، کانگریس اور تلگو دیشم الجھن کا شکار ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ریاست کی تقسیم کے بعد جو سروے کئے گئے ہیں، ان کے مطابق تلنگانہ کے بعض علاقوں میں ابھی بھی وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی مقبولیت کا انکشاف ہوا ہے ۔ آنجہانی چیف منسٹر ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے فلاحی اقدامات کا اثر آج بھی عوام میں دیکھا جارہا ہے ۔ اسی سروے کی بنیاد پر وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے تلنگانہ میں اپنی ساری توانائی صرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی اگرچہ اسمبلی کی تمام نشستوں پر مقابلہ کا منصوبہ رکھتی ہے تاہم سروے کے مطابق وہ 50 اسمبلی حلقوں میں اثر انداز ہونے کے موقف میں ہے۔ اس کے علاوہ لوک سبھا کی 19 نشستوں میں 7 نشستیں ایسی ہیں جہاں وائی ایس آر کانگریس پارٹی اپنے حریفوں کو سخت مقابلہ دے سکتی ہے۔ پارٹی نے پانچ ایسے لوک سبھا حلقوں کی نشاندہی کی ہے جہاں سیما آندھرا سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ مسلم اور عیسائی رائے دہندوں کی قابل لحاظ تعداد موجود ہے
اور وہ نتیجہ پر بآسانی اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ ان لوک سبھا حلقہ جات میں سکندر آباد ، ملکاج گیری ، چیوڑلہ ، کھمم اور محبوب آباد (ورنگل) شامل ہیں۔ پارٹی نے سیما آندھرا عوام کے ساتھ ساتھ اقلیتی رائے دہندوں پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تلنگانہ میں پارٹی سی پی ایم سے مفاہمت کے حق میں ہے۔ توقع ہے کہ بہت جلد دونوں جماعتوں کے درمیان مفاہمت پر بات چیت ہوگی۔ اعداد و شمار کے مطابق پارٹی کو تلنگانہ میں صرف 6 فیصد ووٹ کی ضرورت ہے تاکہ وہ قومی جماعت کا موقف حاصل کرسکے ۔ موجودہ حالات میں اس قدر ووٹ حاصل کرنا کوئی مشکل بات نہیں۔ چیوڑلہ لوک سبھا حلقہ میں تقریباً 4 لاکھ رائے دہندے سیما آندھرا سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ دو لاکھ مسلم اور دو لاکھ عیسائی رائے دہندے ہیں۔ سکندر آباد لوک سبھا حلقہ میں سیما آندھرا رائے دہندوں اور مسلم اور عیسائی رائے دہندوں کی تعداد پانچ لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے ۔ ملکاجگیری لوک سبھا حلقہ میں سیما آندھرا رائے دہندوں کی تائید کے بغیر کوئی بھی پارٹی کامیابی حاصل نہیں کرسکتی۔ وائی ایس آر کانگریس نے جن پانچ لوک سبھا حلقوں پر توجہ مرکوز کی ہے، ان میں سیما آندھرا اور اقلیتوں کے پاس توازن و قوت ہے۔ اسمبلی حلقہ جات مہیشورم ، راجندر نگر ، خیریت آباد ، عنبر پیٹ ، جوبلی ہلز اور نامپلی میں بھی وائی اسے آر کانگریس پار ٹی کو سیما آندھرا عوام کی تائید حاصل ہوسکتی ہے۔ پارٹی قیادت ان حلقوں کیلئے موزوں امیدواروں کا انتخاب کرے گی اور اس سلسلہ میں ہنگامی سطح پر سروے کئے جارہے ہیں۔