تلنگانہ میں میڈیکل نشستوں کی فیس میں اضافہ سے انکار

خانگی میڈیکل کالجس کے وفد کی نمائندگی پر چیف سکریٹری راجیو شرما کا جواب

حیدرآباد۔/20جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے واضح کردیا کہ میڈیکل نشستوں کی فیس میں اضافہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تلنگانہ میں موجود خانگی میڈیکل کالجس کے انتظامیہ کے ایک وفد نے آج چیف سکریٹری راجیو شرما سے ملاقات کی اور ایم بی بی ایس نشستوں کی فیس میں اضافہ کا مطالبہ کیا۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ تعلیمی خرچ میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے فیس میں اضافہ کیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف سکریٹری نے وفد پر واضح کردیا کہ حکومت قطعی طور پر فیس میں اضافہ کے حق میں نہیں اور وہ اس طرح کا کوئی فیصلہ نہیں کرے گی۔ گذشتہ سال جو فیس ڈھانچہ موجود تھا جاریہ سال اسی پر عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے انتظامیہ سے کہا کہ زائد فیس کی وصولی کی شکایات ملنے کی صورت میں حکومت ان کے خلاف کارروائی پر مجبور ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایم بی بی ایس کی فیس تمام طلبہ کے دسترس میں ہونی چاہیئے اور حکومت چاہتی ہے کہ تعلیم غریب اور متوسط طبقات تک پہنچ سکے۔ انہوں نے خانگی کالجس کے انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ اس مقصد کی تکمیل میں حکومت سے تعاون کریں۔ خانگی کالجس کے انتظامیہ نے تلنگانہ ریاست میں علحدہ ایمسیٹ کے انعقاد کی تجویز پیش کی تاہم چیف سکریٹری نے اس تجویز کو نامنظور کردیا۔ ریاست کی تقسیم کے موقع پر جس قانون کو منظوری دی گئی اس کے مطابق دونوں ریاستوں میں آئندہ دس برسوں تک داخلوں کا موجودہ نظام ہی رائج رہے گا۔کالجس کے انتظامیہ نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے حکومت کو پیش کردہ یادداشت میں سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق یکساں فیس کی وصولی کی اجازت دینے کی درخواست کی۔ اس کے علاوہ کالجس کو اپنے طور پر امتحانات کے انعقاد کی اجازت دینے کی بھی درخواست کی گئی۔ چیف سکریٹری نے کالجس کے انتظامیہ سے کہا کہ چونکہ نئی حکومت ابھی تشکیل پائی ہے لہذا موجودہ تعلیمی نظام اور فیس ڈھانچہ کو برقرار رکھا جانا چاہیئے۔بتایا جاتا ہے کہ میڈیکل کالجس کے انتظامیہ سے حکومت بہت جلد پھر ایک بار مذاکرات کرے گی۔