تلنگانہ میں جشن، آتشبازی ،عوام کی ایک دوسرے کو مبارکباد

سیما آندھرا میں عوام کا احتجاج، چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کا آج استعفیٰ

حیدرآباد 18 فبروری (سیاست نیوز) تاریخی تلنگانہ بِل کی لوک سبھا میں منظوری کے ساتھ ہی علاقہ تلنگانہ کے 10 اضلاع میں جشن منایا گیا اور عوام نے آتشبازی کا مظاہرہ کیا اور ایک دوسرے کو مبارکباد دی کیونکہ اُن کی دیرینہ آرزو آج پوری ہوئی۔ دوسری طرف آندھرا علاقہ میں عوام احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور چیف منسٹر مسٹر این کرن کمار ریڈی نے کل مستعفی ہونے کی پوری تیار کرلی ہے۔ وائی ایس آر کانگریس جو ریاست کی تقسیم کے خلاف احتجاج میں پیش پیش تھی، کل آندھراپردیش بند کا اعلان کیا ہے۔ حکمراں کانگریس کو آج ساحلی آندھرا میں ایک اور دھکہ پہونچا کیونکہ ریاستی وزیر انفراسٹرکچر اینڈ انوسٹمنٹ جی سرینواس راؤ نے بطور احتجاج اپنے عہدہ اور پارٹی سے استعفیٰ دے دیا۔ شمالی ساحلی آندھرا میں بااثر کانگریس لیڈر و سابق رکن پارلیمنٹ جی سرینواس راؤ نے کہاکہ عوام کی مرضی کے خلاف ریاست کی تقسیم کے فیصلہ پر وہ مستعفی ہورہے ہیں۔ وہ 2009 ء میں ضلع وشاکھاپٹنم کے اناکا پلی سے چرنجیوی کی پرجا راجیم پارٹی سے منتخب ہوئے تھے تاہم اُن کی پارٹی بعد میں کانگریس میں ضم ہوگئی۔

چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی نے اپنا موقف برقرار رکھتے ہوئے کل وفادار وزراء اور ارکان اسمبلی کا ایک اجلاس طلب کیا ہے جس میں وہ رسمی طور پر مستعفی ہونے کا فیصلہ سنائیں گے۔ وزیر سماجی بہبود پی ستیہ نارائنا نے یہ بات بتائی۔ اُنھوں نے کہاکہ چیف منسٹر 10.45 بجے صبح پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے اور راج بھون پہونچ کر گورنر ای ایس ایل نرسمہن کو استعفیٰ پیش کردیں گے۔ آج دن میں تلنگانہ بِل لوک سبھا میں منظور کئے جانے کی اطلاع جیسے ہی عام ہوئی علاقہ میں جئے تلنگانہ کے نعرے گونجنے لگے اور جشن کا ماحول دکھائی دے رہا تھا۔ عوام نے بڑے پیمانے پر آتشبازی کی اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ تلنگانہ لوک گیتوں پر عوام کو رقص کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ عثمانیہ یونیورسٹی جو علیحدہ تلنگانہ تحریک کا مرکز بنی رہی، آج یہاں طلبہ کی کثیر تعداد جمع تھی اور اپنا مقصد پورا ہونے پر رقص کرتے نظر آرہے تھے۔ کانگریس کارکنوں نے کئی مقامات پر مٹھائیاں تقسیم کیں اور صدر سونیا گاندھی کی تصویروں کے ساتھ ریالیاں نکالیں جن پر ’’تلنگانہ تلی‘‘ تحریر تھا۔ عوام ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے اور اِسے طویل ترین جدوجہد و قربانیوں کا ثمرہ قرار دے رہے تھے۔ تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے صدرنشین ایم کودنڈا رام نے کہاکہ آج خوشی کے اظہار کے لئے اُن کے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ ساحلی آندھرا اور رائلسیما کے ملازمین کی طاقتور یونین اے پی این جی اوز نے تلنگانہ بِل کی منظوری کی مذمت کی۔

اے پی این جی اوز نے بڑے پیمانے پر متحدہ ریاست کی تائید میں احتجاجی مہم چلائی تھی۔ صدر اے پی این جی اوز پی اشوک بابو نے دہلی میں کہاکہ عوام اسے فراموش نہیں کریں گے اور حکومت کو سبق سکھائیں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ سیما آندھرا کے عوام کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہم اِس انداز میں آگے بڑھیں گے کہ ریاست کی تقسیم کا نقصان کم سے کم ہوسکے۔ سیما آندھرا علاقوں میں آج سکیورٹی انتظامات انتہائی سخت کئے گئے تھے اور انتظامیہ لاء اینڈ آرڈر کی امکانی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پوری طرح تیار تھا۔ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس (لاء اینڈ آرڈر) وی ایس کے کمودی نے کہاکہ ہم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور صورتحال کی مناسبت سے مناسب کارروائی کریں گے۔