حیدرآباد اور اضلاع میں سناٹے جیسا منظر ، تقریباً 4 کروڑ عوام کی تفصیلات حاصل کرنے 4 لاکھ ملازمین کی خدمات
حیدرآباد ۔ 19 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : ملک میں اپنی نوعیت کے پہلے اقدام میں 19 اگست ، منگل کو ریاست تلنگانہ میں جامع خاندانی سروے منعقد کیا گیا تاکہ صرف ایک دن میں ریاست کے تقریبا چار کروڑ عوام کے سماجی اور معاشی موقف کو معلوم کیا جائے ۔ تقریبا چار لاکھ سرکاری ملازمین ریاست تلنگانہ کے تمام دس اضلاع بشمول حیدرآباد میں تقریبا ایک کروڑ خاندانوں کو کور کررہے ہیں ۔ اپوزیشن کی تنقید اور ان الزامات کے قطع نظر کہ اس سروے کا مقصد حیدرآباد میں رہنے والے آندھرا پردیش کے عوام کو باہر کرنا ہے ۔ تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے تفصیلات حاصل کرنے کے لیے ایک جامع سروے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا جس پر آج عمل کیا گیا ۔ حکومت نے وضاحت کی کہ عوام سے ان کی معلومات حاصل کرتے ہوئے وہ فلاحی اسکیمات کے حقیقی استفادہ کنندگان کی نشاندہی کرنا اور بوگس کو ختم کرنا چاہتی ہے ۔ یہ سروے پوری ریاست تلنگانہ میں منگل کے دن صبح 7 بجے شروع ہوا ۔ اس میں شمار کنندے گھر گھر جاکر عوام سے ان کی تفصیلات حاصل کیں ۔ جیسے نام ، عمر ، تعلیمی قابلیت ، پیشہ ، آدھار کارڈ نمبرس ، بنک اکاونٹ نمبر ، جائیداد اور دیگر تفصیلات ۔ سروے کا یہ عمل شام 7 بجے تک جاری رہا ۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں 75 ہزار سرکاری ملازمین نے 20 لاکھ خاندانوں کی تفصیلات حاصل کرنے کا کام انجام دیا ۔ بعض حلقوں میں ظاہر کئے گئے ان اندیشوں کے برعکس ، کہ اس سروے کا مقصد حیدرآباد میں رہنے والے آندھرا پردیش کے عوام کو نشانہ بنانا ہے ۔ سروے فارم میں وطنیت کا کوئی کالم نہیں رکھا گیا حتی کہ بنک اکاونٹ نمبر دینا بھی اختیاری ہے ۔ چونکہ حکومت نے اس سروے میں حصہ لینے کے لیے عوام کو ان کے گھروں پر رہنے میں سہولت کی خاطر سروے کے دن تعطیل کا اعلان کیا ۔ اس لیے پوری ریاست تلنگانہ میں عام زندگی گویا رک سی گئی تھی ۔ شاپس ، پٹرول بنکس ، ہوٹلس ، سنیما گھر ، تجارتی ادارے ، کمپنیز ، فیکٹریز اور تعلیمی ادارے بند رہے ۔ آر ٹی سی بسیں سڑکوں سے غائب رہیں ۔۔