تلنگانہ میں اول تا پانچویں جماعت یکساں تدریسی نصاب

اسکول انتظامیہ کسی بھی فیصلہ سے قاصر، سرکاری احکامات پر عوام اور طلبہ میں الجھن
حیدرآباد ۔ 22 مئی (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں درسی کتب کے متعلق سرکاری احکامات پر عوام اور طلبہ الجھنوں کا شکار بنے ہوئے ہیں جبکہ اسکول انتظامیہ و مالکین کوئی قطعی فیصلہ کرنے سے قاصر نظر آرہے ہیں۔ حکومت نے اول تا پانچویں جماعت تمام اسکولوں میں یکساں تدریسی نصاب کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے جس سے عوام میں الجھنیں پائی جاتی ہیں۔ بیشتر خانگی اسکولوں میں تدریسی کتب کی فروخت کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور کئی اسکولوں سے اولیائے طلبہ و سرپرستوں نے کتابیں خرید لی ہیں لیکن حکومت کے احکامات کے بعد وہ بھی الجھن کا شکار بنے ہوئے ہیں۔ ضلع انتظامیہ و محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کا کہنا ہیکہ مذکورہ احکامات سے کسی بھی صورت میں دستبرداری اختیار کئے جانے یا پھر وقت فراہم کئے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ متعدد مرتبہ زبانی احکامات کے ساتھ ساتھ تحریری احکامات کی اجرائی کے بعد تعلیمی سال 2015-16ء کے آغاز سے سختی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کا کہنا ہیکہ تدریسی نصاب میں اضافی کتب بالخصوص گائیڈس وغیرہ کا استعمال ابتداء سے ہی ممنوع ہے لیکن بعض اداروں کی جانب سے گائیڈس کا استعمال کیا جارہا تھا جس پر انہیں نظرانداز کیا گیا مگر اب حکومت تلنگانہ کسی بھی صورت میں بچوں میں غیرصحتمندانہ مسابقت کو فروغ دینے کے حق میں نہیں ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہیکہ جو اسکول تدریسی کتب فروخت کررہے ہیں، وہ بالکلیہ طور پر غلط سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں ان کے الحاق کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور احکامات کی خلاف ورزی کے مرتکب اسکولوں کے خلاف کارروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ جناب محمود ساجد منتظم اعلیٰ سینٹ معاذ ہائی اسکول نے بتایا کہ حکومت کا یہ فیصلہ تدریسی نصاب کے معیار کو بہتر بناتے ہوئے کئے جانے پر قابل قبول ہے لیکن اس کے ساتھ اس بات کی بھی وضاحت ضروری ہیکہ جو تعلیمی ادارے مذہبی نصاب و مضامین پڑھاتے ہیں، انہیں کیا اس کی اجازت باقی رہے گی؟ انہوں نے بتایا کہ سرکاری نصاب کی کتب ابھی حاصل نہیں ہوئی ہے اسی لئے معیار کے متعلق کچھ بھی کہنا درست نہیں ہے۔ جناب ساجد محمود نے یکساں سرکاری تدریسی نصاب کے نفاذ کے منفی و مثبت پہلوؤں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے سرپرستوں و اولیائے طلبہ کو کچھ راحت ہوگی اور ان پر بوجھ کم ہوگا لیکن اگر نصاب کا معیار مناسب نہ رہے تو طلبہ کی صلاحیتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ جناب سید آصف کرسپانڈنٹ الائنس انٹرنیشنل اسکول نے بتایا کہ حکومت کا فیصلہ کافی دور رس نتائج کا حامل ثابت ہوسکتا ہے لیکن فوری طور پر اسے قابل عمل بنائے جانے کی صورت میں نہ صرف اولیائے طلبہ، سرپرستوں کو نقصان برداشت کرنا پڑے گا بلکہ پبلشرس کو بھی کافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جب یہ کام جاری کررہی ہے تو اس بات کی بھی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہیکہ وہ بروقت تمام طلبہ کو درسی کتب پہنچانے کے اقدامات کرے۔ جناب سید آصف نے کہا کہ حکومت اور محکمہ تعلیم کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ فی الفور اس طرح کے احکامات پر عمل اوری کو یقینی بنانا دشوار ہے اسی لئے 15 مئی کو جاری کردہ سرکولر پر آئندہ تعلیمی سال سے لازمی عمل کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے۔