تلنگانہ میں اقلیتوں کے لیے قرضوں سے مربوط سبسیڈی ممکن نہیں

اسکیم میں قواعد کی تبدیلی کے فیصلہ سے تاخیر ، ہزاروں منتخب امیدواروں کو سبسیڈی کا انتظار
حیدرآباد۔/9ڈسمبر، (سیاست نیوز) تلنگانہ میں جاریہ سال اقلیتوں کیلئے بینکوں کے قرض سے مربوط سبسیڈی فراہمی کی اسکیم پر عمل آوری ممکن نہیں۔ جاریہ مالیاتی سال کے اختتام کیلئے صرف 4ماہ باقی ہیں اور اس قدر کم مدت میں اس اسکم پر عمل آوری کے امکانات موہوم ہیں جس کا اعتراف خود اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں کو بھی ہے۔ حکومت نے غریب اقلیتوں کو بینک سے قرض کی فراہمی اور اقلیتی فینانس کارپوریشن سے سبسیڈی کی اجرائی سے متعلق اسکیم کے قواعد میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے لیکن ابھی تک نئے قواعد کو قطعیت نہیں دی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ سال اس اسکیم کے تحت تقریباً 35کروڑ روپئے کی بطور سبسیڈی اجرائی باقی ہے اور ہزاروں منتخب امیدوار سبسیڈی کے انتظار میں ہیں۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش دونوں حکومتوں نے اقلیتی فینانس کارپوریشن کو سبسیڈی کی اجرائی کے سلسلہ میں ابھی تک کوئی اجازت نہیں دی۔ واضح رہے کہ تلنگانہ حکومت نے بینکوں سے قرض سے مربوط سبسیڈی کی اسکیم کیلئے جاریہ سال 90کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اسکیم کے قواعد طئے نہیں کئے گئے جس کے باعث ابھی تک کارپوریشن نے امیدواروں سے درخواستیں طلب نہیں کی۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کو قواعد طئے کرنے میں مزید دو ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ طریقہ کار کے مطابق حکومت کی جانب سے شرائط و قواعد طئے کئے جانے کے بعد کارپوریشن مستحق امیدواروں سے درخواستیں طلب کرے گا۔ درخواستوں کی جانچ اور اہل امیدواروں کے انتخاب کی کارروائی کی تکمیل کیلئے دو ماہ درکار ہوں گے۔ قرض کی اجرائی کے سلسلہ میں ریاستی سطح کی بینکرس کمیٹی کا اجلاس ضروری ہے جس میں بینکوں کیلئے نشانہ مقرر کیا جاتا ہے۔ درخواستوں کی وصولی کے بعد ضلع واری سطح پر بینکرس کمیٹی کی جانب سے اہل امیدواروں کی نشاندہی کرتے ہوئے قرض کی اجرائی سے اتفاق کیا جاتا ہے۔ بینکوں کی جانب سے قرض کی اجرائی سے اتفاق کے بعد اقلیتی فینانس کارپوریشن سبسیڈی کی رقم امیدواروں کے اکاؤنٹ میں منتقل کرتا ہے۔ ان تمام مراحل کی تکمیل کیلئے تقریباً چار ماہ درکار ہوں گے۔ اس اعتبار سے جاریہ سال اس اسکیم پر عمل آوری خطرہ میں دکھائی دے رہی ہے۔ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مالیاتی سال کے اختتام کی مدت کم ہونے کے باعث عجلت میں اسکیم پر عمل نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا آئندہ سال اس پر عمل آوری کی جائے گی۔ واضح رہے کہ 2013-14 کے لئے تلنگانہ میں 18کروڑ 60لاکھ روپئے بطور سبسیڈی کی اجرائی باقی ہے جبکہ 3779 اہل امیدواروں کا انتخاب کرلیا گیا۔ اسی طرح آندھرا پردیش میں 17کروڑ 62لاکھ روپئے کی اجرائی باقی ہے جو 3644 امیدواروں میں تقسیم کی جانی ہے۔ تلنگانہ حکومت کو 10کروڑ روپئے جاری کرنے ہیں جبکہ کارپوریشن کے پاس 8کروڑ موجود ہیں۔ اگر تلنگانہ حکومت اجازت دے تو کارپوریشن 8کروڑ روپئے بطور سبسیڈی جاری کردے گا۔ آندھرا پردیش میں 22کروڑ روپئے اقلیتی فینانس کارپوریشن کے پاس موجود ہیں لہذا سبسیڈی کی اجرائی کیلئے صرف حکومت کی منظوری کا انتظار ہے۔