ڈیجیٹلائزیشن سے تعلیمی میدان میں غیر معمولی ترقی اور سہولتوں کی امید
حیدرآباد ۔ 10 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز): حکومت تلنگانہ کی جانب سے اسکولی طلبہ کی کتابوں کو آن لائن پیش کئے جانے کا منصوبہ تیار کیا جارہا ہے ۔ حکومت کے منصوبہ کے مطابق ریاستی کونسل برائے تعلیمی تحقیق و تربیت جو نصاب تیار کرہی ہے اسے آن لائن رکھا جائے گا ۔ جہاں سے طلبہ راست ڈیجیٹلائز انداز میں نصابی کتب کا مطالعہ کرسکیں گے ۔ حکومت اگر اس تجرباتی عمل میں کامیاب ہوتی ہے تو تعلیمی میدان میں یہ ایک غیر معمولی کامیابی ہوگی چونکہ ڈیجیٹلائیز تعلیم اب تک صرف ترقی یافتہ ممالک کی میراث بنی ہوئی تھی اور صرف بین الاقوامی تعلیمی اداروں کے طلبہ ہی کمپیوٹر اور آن لائن کے ذریعہ تعلیم سے استفادہ کی متحمل قرار دئیے جاتے تھے ۔ حکومت تلنگانہ اب جب کہ تلنگانہ طلبہ کے لیے نئے نصاب کی تیاری کے عمل میں مصروف ہے اگر وہ اس نصاب کو آن لائن پیش کرناچاہے تو اس میں کوئی دشواری نہیں ہوگی اور طلبہ عصری طریقہ تعلیم سے استفادہ کرپائیں گے ۔ اسٹیٹ کونسل آف ایجوکیشن ریسرچ اینڈ ٹریننگ کے عہدیداروں کے بموجب ریاست کے تعلیمی نصاب کو آن لائن کرنے کے عمل پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے اور اس خصوص میں تجرباتی اساس پر کارروائی بھی شروع ہونے کے مراحل میں داخل ہوچکی ہے ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے چند برس قبل ملک گیر سطح پر ماڈل اسکولس کی تعمیر کا اعلان کیا گیا تھا اور اس سلسلہ میں ریاست آندھرا پردیش بالخصوص شہر حیدرآباد کو کئی اسکولس منظور کئے گئے تھے ۔ جس میں ڈیجیٹلائیز کلاس رومس کی منظوری بھی شامل تھی لیکن چند ایک اسکولس کے علاوہ مابقی اسکولس شروع نہیں ہوپائے ہیں اگر حکومت تعلیمی نصاب کو ڈیجیٹلائیز کرتے ہوئے اسے عصری دور و طریقہ سے ہم آہنگ کرتی ہے تو ایسی صورت میں ماڈل اسکولس کا قیام ناگزیر ہوجائے گا اور سرکاری اسکولوں کو معیاری بنانے کے متعلق فیصلہ کرنا ہی پڑے گا ۔ حکومت تلنگانہ ریاست کے تعلیمی معیار کو عالمی طرز کا بنانے کے لیے اقدامات کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو ریاست کی مجموعی تعلیمی ترقی کو ممکن بنایا جاسکتا ہے ۔ ریاستی کونسل برائے تعلیمی تحقیق و تربیت کے بموجب آئندہ تعلیمی سال کے آغاز سے قبل تعلیمی نصاب کو آن لائن کرنے کا عمل شروع ہوجائے گا اور اس خصوص میں کونسل کی جانب سے حکومت کو مطلع کردیا گیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے کونسل کی اس تجویز پر مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ریاست کے سرکاری اسکولوں میں معیاری کمپیوٹر لیابس کے قیام کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے ۔ ریاست میں سرکاری اسکولوں میں معیاری تعلیم کی فراہمی بالخصوص ڈیجیٹلائیز تعلیم کے سلسلہ کے آغاز سے نہ صرف سرکاری اسکولوں کے طلبہ مسابقتی دوڑ میں آگے آئیں گے بلکہ خانگی اسکولوں کو بھی تجدید کاری اور معیاری سہولیات کی فراہمی کے سلسلہ میں آگے آنا پڑے گا ۔ ریاست کی تقسیم کے بعد حکومت تلنگانہ و آندھرا پردیش نے اپنے تعلیمی نصاب کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلہ کے بعد نئے نصاب پر دونوں حکومتوں کی جانب سے سرگرم مشاورت اور نصاب کی تیاری کا عمل جاری ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اندرون دو ہفتے ریاست تلنگانہ کا تعلیمی نصاب قطعیت پاجانے کی توقع ہے ۔ نصاب کو قطعیت دئیے جانے کے فوری بعد اس کے ڈیجیٹلائیزیشن کا عمل شروع ہوگا اور مکمل نصاب آئندہ تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ اسکول ایجوکیشن کی ویب سائٹ پر دستیاب رہے گا ۔۔