انقلابی مصنف ورا ورا راؤ کا بیان
حیدرآباد۔21مارچ(سیاست نیوز) شعبہ تعلیم کو فرقہ پرستی کے اثر سے بچانے کے لئے آصف جاہی حکمرانوںنے شعبہ تعلیم کو خانگیانے کے بجائے ریاستی انتظامیہ کے تحت رکھابالخصوص ساتویں نظام کے دور میں تعلیم کے فروغ پر ریاستی انتظامیہ نے خصوصی توجہہ دی اور ریاستی انتظامیہ کی نگرانی میں ہی علم حاصل کرنے کے مفت مواقع فراہم کئے ۔ انقلابی مصنف ورا ورارائو نے متحدہ ریاست آندھر اپردیش میں استحصال کے شکار طبقات کے ساتھ نئی ریاست تلنگانہ میںانصاف کے متعلق گفتگو میں یہ بات کہی۔ انہوں نے کہاکہ آصف جاہی حکمران نے تعلیم کو سکیولر رکھنے کے لئے برٹش ماڈ ل کو اپناتے ہوئے شعبہ تعلیم کو خانگیانہ کرنے کے بجائے ریاستی انتظامیہ کی نگرانی میں ہی رکھا۔ انہوں نے مزید کہاکہ آصف جاہی دور حکومت میں حیدرآباد کے بشمول ورنگل میں قائم کئے گئے تعلیمی ادارے اس بات کاواضح ثبوت ہیں۔ انہوں نے آندھرائی حکمرانوںبالخصوص 1980کے بعد برسراقتدار آنے والی آندھرائی قائدین کی جانب سے تعلیم کو خانگیانہ بنانے کے اقدامات کو علاقہ تلنگانہ کے پسماندہ طبقات کی تعلیم سے محرومی کی اصل وجہہ قراردیا۔ انہوں نے کہاکہ مفت تعلیمی اور طبی سہولتوں کی فراہمی حکمران طبقہ کی ذمہ دار ہوتی ہے جس کو آصف جاہی حکمرانوں نے بہ خوبی انجام دیا ۔
مسٹر ورا ورارائو نے کہاکہ 1988میں ٹاڈا قانون نافذ کیا گیا جس کے ذریعہ علاقہ تلنگانہ کے قبائیلی ‘دلت طبقات کو مائوسٹ اور مسلم نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان کا عرصہ حیات تنگ کردیا گیا۔انہوں نے آندھرائی حکمرانوں پر گلوبلائزیشن کے فروغ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ دلت اور مسلمان چھوٹی صنعتوں سے وابستہ تھے انہوں نے مزید کہاکہ دست کاری اور چھوٹی صنعتوں سے وابستہ طبقات کے ذریعہ معاش کو ختم کرنے کے لئے تلنگانہ میں سرمایہ دارانہ نظام رائج کیا گیا جس کا راست اثر مسلم اور دلت طبقات پر پڑا۔انہوںنے کہاکہ تلنگانہ کے وسائل قیمتی دھات‘ قدرتی منرلس‘ سرکاری اور وقف اراضیات کو بھی آندھرائی قائدین اور سرمایہ داروں نے ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرتے ہوئے پسماندگی کا شکار طبقات کو ان کے حقوق سے محروم کردیا ۔ مسٹر ورا ورارائو نے کہاکہ پولیس ایکشن اور رضاکاروں سے مدبھیڑ کے نام پر دولاکھ مسلمانوں اور چار ہزار کمیونسٹوں کو قتل کردیا گیا۔انہوں نے کہاکہ اب جبکہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل عمل میں آرہی ہے تو ان حالات میں علیحدہ ریاست تلنگانہ تحریک کے مقاصد کو پورا کرنے کے لئے ظلم ‘ ناانصافیوں‘ حق تلفی او راستحصال کا شکار طبقات کو آبادی کے تناسب سے تحفظات فراہم کرتے ہوئے سماجی مساوات کو فروغ دیا جاناچاہئے۔