تلنگانہ میں آندھرائی کارپوریٹ جونیر کالجس کا غلبہ برقرار

حیدرآباد ۔ 26 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ پرائیوٹ جونیر کالج مینجمنٹس اسوسی ایشن نے حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیا کہ وہ تلنگانہ میں واقع پرائیوٹ جونیر کالجس کی ٹیوشن فیس میں اضافہ کرتے ہوئے قطعی فیس کا تعین کرے علاوہ ازیں فائر سیفٹی سرٹیفیکٹ کے لزوم میں نرمی اور کالجس کو درپیش مسائل کی یکسوئی کرے ۔ ان خیالات کا اظہار صدر تلنگانہ پرائیوٹ جونیر کالج مینجمنٹس اسوسی ایشن مسٹر وی نریندر ریڈی اور جنرل سکریٹری ڈاکٹر پی جگدیشور نے آج یہاں منعقدہ پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں واقع پرائیوٹ کالجس سے انٹر کے طلباء کو معیاری تعلیم دی جارہی ہے ۔ ایمسیٹ میں بھی اچھے رینک کے حصول کی جدوجہد کی جارہی ہے ۔ ریاست تلنگانہ میں واقع آندھرائی کارپوریٹ کالجس میں طلباء سے من مانی فیس وصول کرنے کے علاوہ طلباء پر اعلیٰ نشانات کے حصول کے لیے ذہنی جسمانی اذیت اور ہراسانی کی جاتی ہے جس کے نتیجہ میں کئی طلباء کی جانب سے خود کشی کرلینے کے واقعات بھی رونما ہوتے ہیں ۔ علحدہ ریاست تلنگانہ کے قیام کے باوجود ریاست تلنگانہ میں آندھرائی عوام کے کارپوریٹ کالجس اپنی کامیابی کے ساتھ رواں دواں ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ تقسیم ریاست کے بعد حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر تعلیمی نصاب میں تبدیلی لاتے ہوئے آندھرائی غلبہ سے متعلق نصاب کو حذف کردیا جائے ۔ انہوںنے حکومت پر زور دیا کہ وہ انٹر میڈیٹ کے بعد منعقد کئے جانے والے ’ایمسیٹ ‘ امتحان کو حسب سابق برقرار رکھیں تاکہ اچھا رینک حاصل کرتے ہوئے اعلی رینک حاصل کرنے والے ذہین طلباء کو اچھے انجینئرنگ کالجس میں داخلہ مل سکے ۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ طلباء کے لیے تلنگانہ حکومت کی جانب سے مرتب کی گئی fast اسکیم پر فوری طور پر اثر کے ساتھ عمل آوری کرے تاکہ غریب ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور میناریٹی طلباء کو اعلی تعلیم کے ذرائع حاصل ہوسکیں ۔ اور اسی طرح سے حکومت کو چاہئے کہ وہ انٹر میڈیٹ کے امتحانات کے موقعوں پر سرکاری جونیر کالجس کے لکچررس کی طرح پرائیوٹ کالجس کے لکچررس اور عملہ کو بھی ڈیوٹی پر متعین کرے ۔۔