تلنگانہ میں آندھرائی پارٹیوں کے لیے کوئی مقام نہیں

حیدرآباد ۔ /4 فبروری (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ کے کویتا نے کہا کہ تلنگانہ میں آندھرائی پارٹیوں کیلئے کوئی مقام نہیں ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تلگودیشم تلنگانہ کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ کویتا نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے چیف منسٹر آندھراپردیش چندرا بابو نائیڈو کے اس بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا جس میں انہوں نے چیف منسٹر اور وزراء کے بیرونی دوروں پر نکتہ چینی کی تھی ۔ کویتا نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو تلنگانہ کے قیام کے باوجود مختلف شعبوں میں ناانصافی کا رویہ برقرار رکھے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو کو تلنگانہ میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ۔ انہیں چاہئیے کہ وہ آندھراپردیش کی عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز کرے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ اور حکومت کے خلاف ان کی تنقیدوں کو عوام برداشت نہیں کریں گے ۔ تلنگانہ کی عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ مختلف وسائل میں کس طرح چندرا بابو نائیڈو تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں سیما آندھرائی جماعتوں کیلئے کوئی مقام نہیں اور ٹی آر ایس ہی واحد پارٹی ہے جو عوام کیلئے قابل قبول ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کے مقصد سے آگے بڑھنے والے تلنگانہ راشٹرا سمیتی کو آئندہ انتخابات میں عوام دوبارہ منتخب کریں گے ۔ کویتا نے پارٹی کی رکنیت سازی مہم کا افتتاح کیا اور کارکنوں اور قائدین سے اپیل کی کہ وہ اس مہم کو کامیاب بنائیں ۔ انہوں نے خاتون ورکرس سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ خواتین کو پارٹی سے وابستہ کرنے کی کوشش کریں ۔ کویتا نے کہا کہ تلنگانہ تحریک میں خواتین نے غیرمعمولی رول ادا کیا اور ٹی آر ایس حکومت خواتین کی فلاح و بہبود اور ترقی کیلئے کئی اسکیمات کا آغاز کرچکی ہے ۔ خواتین کے تحفظ کے سلسلے میں حیدرآباد میں شی ٹیموں کے آغاز کا حوالہ دیتے ہوئے کویتا نے کہا کہ پولیس ملازمین پر مشتمل ان ٹیموں کی تشکیل سے خواتین کو چھیڑ چھاڑ کے واقعات میں کمی آئی ہے ۔