تلنگانہ مخالفین کو بھی حکومت میں شامل کرنا افسوسناک: سی پی آئی

حیدرآباد۔/17ڈسمبر، ( سیاست نیوز) ریاست آندھرا پردیش اور تلنگانہ ریاست میں دَل بدلی کرنے والے قائدین کی ہمت افزائی کرنے والی ملاوٹ شدہ حکومتیں چلنے (حکومتیں پائی جانے ) کا سی پی آئی نے الزام عائد کیا اور کہا کہ بالخصوص تلنگانہ حکومت میں تلنگانہ کے خلاف بات کرنے والوں کو ہی کابینہ میں توسیع کے موقع پر شامل کیا گیا۔ جبکہ تلنگانہ جدوجہد میں سرگرم رول ادا کرنے والوں کو مسٹر چندر شیکھر نے بالکلیہ طور پر نظرانداز اور فراموش کردیا۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر کے نارائنا قومی قائد سی پی آئی نے یہ بات کہی۔ انہوں نے بتایا کہ بعض قائدین سیاسی اقدار کو پامال کرکے اپنے سیاسی مفادات کے حصول کیلئے پارٹیاں تبدیل کرکے اپنے حقیقی کردار کا ثبوت پیش کررہے ہیں۔ انہوں نے پارٹیاں تبدیل کرنے والے قائدین کو اپنی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایک پارٹی کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لیکر کامیاب حاصل کرنے کے بعد اپنے ذاتی و سیاسی مفادات کیلئے دیگر پارٹیاں بھی اپنے سیاسی استحکام کیلئے دَل بدلی کرنے والے سیاسی قائدین کی ہمت افزائی کرکے اپنی پارٹی میں شامل بھی کررہی ہیں۔ سی پی آئی قائد نے کہا کہ تلگودیشم پارٹی نے سابق میں انتخابات سے عین قبل ہی دیگر پارٹیوں کے قائدین کو اپنی طرف راغب کرتے ہوئے اصل پارٹی سے مستعفی ہونے پر مجبور کرکے انہیں انتخابات میں تلگودیشم پارٹی ٹکٹ دے کر کامیاب ہونے پر ان قائدین کو بھی مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی طرح اپنی کابینہ میں شامل کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح دونوں حکومتیں (آندھرا پردیش و تلنگانہ ) دَل بدلی کی ہمت افزائی کرکے اپنے سیاسی استحکام کیلئے کوشاں ہیں۔