تلنگانہ قانون ساز کونسل کے انتخابات میں تاخیر ممکن

نئی دہلی ۔ 5 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) آندھراپردیش تنظیم جدید قانون میں عدم تسلسل کے نتیجہ میں تلنگانہ قانون ساز کونسل کے دو سالہ انتخابات کے انعقاد میں تاخیر کا امکان ہے۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل کے 7 ارکان کا انتخاب ریاستی اسمبلی کے ارکان کی جانب سے کیا جائے گا۔ یہ ارکان 29 مارچ کو سبکدوش ہوں گے۔ الیکشن کمیشن نے آج نشاندہی کی کہ 40 رکنی قانون ساز کونسل کے 14 ارکان قانون کی دفعہ 23 کے تحت ارکان اسمبلی منتخب کریں گے۔ اسی قانون کی چوتھی جدول میں ارکان کی تعداد 15 تحریر ہے یعنی ایک آدمی زیادہ ہے۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس کے پیش نظر معاملہ وزارت داخلہ کے سپرد کیا گیا تھا جو قانون کی دفعہ 108 کے مطابق ہے تاکہ اس کوتاہی کو دور کیا جاسکے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے جواب ہنوز عدم وصول ہے۔ معاملہ کی یکسوئی کے بعد کارروائی کا آغاز کیا جائے گا تاکہ ان نشستوں کو پُر کیا جاسکے۔

انتخابی ادارہ نے اس مسئلہ کا تذکرہ دو سالہ انتخابات کا اعلان کرتے ہوئے کیا جس کے مطابق آندھراپردیش قانون ساز کونسل کے 5 ارکان منتخب کئے جائیں گے۔ آندھراپردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کا اعلامیہ 10 مارچ کو جاری کیا جائے گا۔ رائے دہی اور رائے شماری 27 مارچ کو ہوگی۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل کی ویب سائیٹ کے بموجب جملہ ارکان کی ایک تہائی تعداد الیکٹوریٹ کی جانب سے منتخب کی جاتی ہے۔

یہ الیکٹوریٹ مجالس مقامی کے ارکان پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جملہ تعداد کا 1/12 حصہ ریاست میں ساکن گریجویٹس کی الیکٹوریٹ پر مشتمل ہوتا ہے۔ 1/12 کا انتخاب تدریس کے پیشہ سے وابستہ افراد پر مشتمل الیکٹوریٹس کرتے ہیں۔ 1/3 کا انتخاب قانون ساز اسمبلی کے ارکان کی جانب سے کیا جاتا ہے اور باقی ارکان کو گورنر نامزد کرتے ہیں۔ 40 رکنی تلنگانہ قانون ساز کونسل 2 جون 2014ء کو تشکیل دی گئی تھی جس کے ارکان سابق آندھراپردیش قانون ساز کونسل کے تلنگانہ علاقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ آندھراپردیش تنظیم جدید قانون 2014ء کے مطابق یہ تعداد مقرر کی گئی تھی۔