تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں سیما۔آندھرا ارکان کی کمی محسوس

عقبی نشستیں خالی، ساتھیوں کی یاد ، تلنگانہ کی پہلی اسمبلی میں ارکان کے ملے جلے جذبات

حیدرآباد۔ 9 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی اجلاس کے پہلے دن ایوان میں سیما۔ آندھرا ارکان کی کمی واضح طور پر محسوس کی جارہی تھی۔ اسمبلی میں 295 ارکان کے لئے نشستیں موجود ہیں لیکن تلنگانہ کے صرف 117 ارکان ہی ایوان میں موجود تھے، لہذا ایوان کی عقبی نشستیں خالی تھیں جس سے عجیب منظر دکھائی دے رہا تھا۔ کئی ارکان کو سیما۔ آندھرا کے ساتھیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے دیکھا گیا جو گزشتہ اسمبلی میں ان کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔ اسمبلی میں برسراقتدار اور اپوزیشن کے لئے مختص نشستوں پر منظر بالکل تبدیل ہوچکا تھا۔ 10 برسوں تک برسراقتدار رہنے والی کانگریس کے ارکان آج اپوزیشن کی نشستوں پر دکھائی دے رہے تھے جبکہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ جنہوں نے واحد رکن اسمبلی کی حیثیت سے اس تحریک کا آغاز کیا تھا، آج اکثریت کے ساتھ چیف منسٹر کی نشست پر براجمان تھے۔ گزشتہ 10 برسوں کے دوران اپوزیشن قائد کی نشست پر چندرا بابو نائیڈو اور اشوک گجپتی راؤ جو دکھائی دیتے رہے لیکن آج ان نشستوں پر ڈاکٹر گیتا ریڈی اور کشٹا ریڈی نظر آرہے تھے۔ ایوان میں کئی تبدیلیاں واضح طور پر دکھائی دے رہی تھیں اور تلنگانہ کی پہلی اسمبلی میں موجود ارکان ملے جلے جذبات کے ساتھ ایک دوسرے سے اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے۔ اسمبلی کے احاطہ میں سکیورٹی حکام اور گاڑیوں کی زیادہ گہماگہمی نہیں تھی کیونکہ تلنگانہ اسمبلی ارکان کی تعداد صرف 119 ہے۔ جس وقت آندھرا پردیش اسمبلی کا اجلاس جاری رہتا، اس وقت ارکان کیلئے گاڑیوں کی پارکنگ کی جگہ ناکافی ہوتی اور جگہ جگہ ارکان اسمبلی اور وزراء کے گن مینس نظر آتے لیکن آج تلنگانہ اسمبلی کے احاطہ میں اس طرح کی کوئی سرگرمیاں نہیں دیکھی گئیں۔ بعض عہدیداروں کو یہ تبصرہ کرتے ہوئے سنا گیا کہ ریاست کی تقسیم کے سبب سکیورٹی حکام کو بھی سکون حاصل ہوا ہے۔ کئی نومنتخب ارکان اسمبلی کے ارکان خاندان ’وزیٹرس گیلری‘ میں موجود تھے اور حلف برداری کا مشاہدہ کررہے تھے۔ کئی ارکان نے حلف لینے کے بعد وزیٹرس گیلری پہنچ کر اپنی اہلیہ اور بچوں سے ملاقات کی۔