حیدرآباد پر مکمل کنٹرول کیلئے جدوجہد جاری رہے گی، تلنگانہ جرنلسٹس فورم کے جلسہ سے صدر ٹی آر ایس کے سی آر اور دوسروں کا خطاب
حیدرآباد۔9مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے لئے نوتشکیل شدہ ریاست میں امکنہ اسکیم ‘ اکریڈیشن اور دیگر سہولیات بالخصوص طبی سہولیات کی فراہمی کے اقدامات کئے جائیں گے اور تحریک تلنگانہ کے دوران جن صحافیوں پر مقدمات درج کئے گئے ہیں ان سے دستبرداری اختیار کی جائے گی ۔صدر تلنگانہ راشٹرا سمیتی مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آج تلنگانہ جرنلسٹس فورم کی جانب سے منعقدہ ’’ جرنلسٹس یاترا ‘‘ سے خطاب کے دوران یہ بات کہی ۔انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ کے صحافیوں کو امکنہ اسکیم میں شامل کرنے اور انہیں مکان کی تعمیر کیلئے اراضیات کی تخصیص کے معاملہ میں بغور جائزہ لیا جائے گا اور انہیں ترجیحی بنیادوں پر امکنہ اسکیم میں حصہ فراہم کیا جائے گا ۔ صدر ٹی آر ایس نے تحریک تلنگانہ میں صحافیوں کے کردار کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت صحافیوں کے مسائل کو حل کرنے کے ممکنہ اقدامات کرے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ تحریک تلنگانہ میں صحافیوں نے نہ صرف قلم کے ذریعہ تحریک میں حصہ لیا بلکہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرتے ہوئے مسئلہ تلنگانہ سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا ۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے سیما ۔ آندھرا ذرائع ابلاغ اداروں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ جدوجہد تلنگانہ ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ اس نئی ریاست اور اس کی ترقی کے علاوہ حیدرآباد پر مکمل تلنگانہ کے کنٹرول کیلئے جدوجہد جاری رکھنی ہے ۔ صدر ٹی آر ایس نے بتایا کہ 58 سال سیما آندھرا حکمرانوں نے تلنگانہ پر حکومت کے ذریعہ اس علاقہ کو پسماندہ بنادیا اور اس کے نتیجہ میں آج علاقہ تلنگانہ مختلف مسائل کا شکار بنا ہوا ہے ۔
انہوں نے اس موقع پر موجود صحافیوں سے اپیل کی کہ وہ ناانصافیوں کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں ۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ تلنگانہ کے ساتھ ہوئی مسلسل ناانصافیوں کے خلاف شروع کردہ تحریک اب کامیابی کا سفر شروع کرچکی ہے اور اسی وقت ریاست تلنگانہ کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا جب نئی ریاست میں تمام طبقات کے ساتھ انصاف یقینی ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ آج بھی بعض ذرائع ابلاغ ادارے گمراہ کن پروپگنڈہ کے ذریعہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل پر نقصانات کے خدشات ظاہر کررہے ہیں جو کہ درست نہیں ہے ۔ مسٹر راؤ نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں تمام سیاسی جماعتوں کا یقیناً صفایا ہوجائے گا چونکہ جن سیاسی جماعتوں نے ریاست تلنگانہ کی تشکیل میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں ان کی حقیقت عوام کے سامنے آچکی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ریاست کی تقسیم میں رکاوٹیں پیدا کرنے والوں بالخصوص سیاسی جماعتوں اور ذرائع ابلاغ اداروں کو تلنگانہ عوام کبھی معاف نہیں کریں گے ۔
صدر ٹی آر ایس نے بتایا کہ جو ذرائع ابلاغ ادارے یہ مہم چلارہے ہیں کہ تشکیل تلنگانہ سے ریاست تلنگانہ میں موجود صنعتی ادارے دوسری ریاستوں کا رُخ کررہے ہیں وہ بالکلیہ غلط ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل تلنگانہ عوام کی ترقی کی ضمانت ثابت ہوگی اور یہ ریاست ملک بھر کی دیگر ریاستوں کیلئے مثال بن سکتی ہے چونکہ اس ریاست کے حصول کیلئے سماج کے ہر طبقہ نے جدوجہد کی ہے ۔سابق وزیر کے جانا ریڈی ‘ ٹی آر ایس ایم پی کے کیشوراؤ ‘ کمیونسٹ رہنما ڈاکٹر کے نارائنا‘ انقلابی گلوکار غدر ‘ کنوینر ٹی جے اے سی ایم کودنڈارام اور دوسروں نے بھی جلسے خطاب کیا ۔