تلنگانہ ریاست میں اُردو کے ساتھ انصاف رسانی کی قوی اُمید

انجنی کمار گوئل کے شعری مجموعہ کا رسم اجراء ، جناب زاہد علی خاں و دیگر کا خطاب

حیدرآباد۔15جون(سیاست نیوز) ملک کی تقسیم کے بعد اُردو پاکستان کی قومی زبان مقرر کی گئی باوجود اسکے وہاںپر علاقائی زبانوں کا غلبہ ہے مگر ہندوستان میں لاکھ سازشوں کے باوجود اُردو زبان کی ترقی وتحفظ کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ انجنی کمار کے شعری مجموعہ گلستان گوئل وممتاز گلوکار محمد وکیل اور پرواگروکی کے دل کی نظر سے سی ڈی کی رسم اجرائی تقریب سے صدارتی خطاب کے دوران جناب زاہد علی خان مدیر اعلی روزنامہ سیاست نے ان خیالات کا اظہار کیا۔سلسلہ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے جناب زاہد علی خان نے کہاکہ اُردو زبان کی ترقی کے لئے جدوجہد کرنے والوں میں راج بہادر گوڑ‘ مہیندر ا اور لاہوٹی جیسے نام شامل ہیںوہیں پر اُردو زبان کو زندہ رکھنے میں ہندئوں بھائیوں کی گرانقدر خدمات کو اُردو داں طبقہ کبھی فراموش نہیںکرسکے گا۔ انہوں نے کہاکہ تقسیم ہند کے بعد سے اُردو کی حفاظت کے لئے جدوجہد کرنے والوں میںہندو‘ مسلم سکھ اور عیسائی تمام مذاہب کے لوگ شامل ہیںجو اُردو کی ترقی کو اپنی زندگی کا مقصد حیات بنائے ہوئے ہیں۔ جناب زاہد علی خان نے انجنی کمار گوئل کے شعری مجموعہ جو اُردو اور ہندی میںشائع کیاگیا ہے کو اُردوہندی اتحاد میںایک عظیم کارنامہ قراردیتے ہوئے کہاکہ ادارہ سیاست کی جانب سے ایک ایسا سافٹ ویر تیار کیاگیا ہے جو اُردو میں ٹائپ کرنے پر ہندی اسکرپٹ میں تبدیل ہوجاتا ہے

اور سیاست کی ویب سائیٹ پر مذکورہ سافٹ ویر کااستعمال بھی ہورہا ہے اور قابلِ فخر یہ بات ہے کہ سیاست ڈاٹ کام کے 16لاکھ مشاہدین میںایک لاکھ سے زیادہ نارتھ انڈیا کے وہ لوگ ہیں جو سیاست ڈاٹ کام کی ہندی خبریں ملاحظہ ہیں۔ جناب زاہد علی خان نے انجنی کمار کے بشمول اُردو ہندی کے دیگر شعراء سے اپنی شاعری میںمسائل کو شامل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ سماج میںبڑھتی نفرت کے واقعات کی روک تھام‘ شادی‘ جہیز‘ خواتین پر مظالم جیسے مسائل کو اپنی شاعری میںشامل کرتے ہوئے عوام میںان مسائل کے حل کے متعلق حوصلہ پیدا کرنے کی ذمہ داری بھی اُردو ‘ ہندی کے شاعروں پر عائد ہوتی ہے۔انہوں نے سماج میںپائے جانے والے نقائص کو دور کرنے کے لئے اس قسم کی تحریکات کو لازمی قراردیا۔ جناب زاہد علی خان نے نئی ریاست تلنگانہ میں اُردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ فراہم کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ ریاست تلنگانہ میں اُردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ فراہم کرنے سے اُردو کے ساتھ مکمل انصاف کی امیدکی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ سابق کی طرح اُردو کے ساتھ انصاف کو صرف اعلانات تک محدود رکھاگیا تو اُردوکی ترقی اور بقاء کے لئے احتجاج کرنے والوں میںسب سے پہلا نام میرا ہوگا۔ انہوں نے ادارہ سیاست کی جانب گلستان گوئل کی رسم اجرائی پر انجنی کمار گوئل کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ شعری مجموعے کی اشاعت تو عمل میں آتی ہے مگر مجموعہ کی نکاسی میں تاخیر شاعر کے حوصلوں کو کمزور بنادیتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ کسی شاعر کے لئے سب سے حسین اور خوشگوار منظر اس کے شاعری مجموعے کی تیزی کے ساتھ نکاسی ہوتا ہے ۔ انہوں نے سینکڑوں کی تعداد میں ہال میںموجود سامعین سے کہاکہ شعری مجموعہ کی رسم اجرائی میںشرکت کے ساتھ شعری مجموعہ کی خریدی بھی شاعر کے حوصلوں کو مزیدمستحکم بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اس موقع پرمنتظمین کی جانب سے صدرتقریب جناب زاہد علی خان‘انجنی کمار گوئل اور دیگر کو تہنیت پیش کی گئی۔ پروفیسر مجید بیدار کے علاوہ ڈاکٹر فاروق شکیل‘ اطیب اعجاز نے اس موقع پر اپنا کلام پیش کیا۔آرگنائزرز خان اطہرنے کاروائی چلائی۔ صوفی سلطان قادری ‘ خلیق الرحمن‘ تسنیم جوہر‘ اسلم فرشوری ‘رحیم اللہ خان نیازی کے علاوہ دیگر معززین نے بھی اس تقریب میںشرکت کی۔