حیدرآباد /25 مئی ( سیاست نیوز ) ریاست تلنگانہ میں حکومت کی مبینہ لاپرواہی سے وظیفہ یاب طبقہ مسائل کا شکار ہے ۔ تلنگانہ تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے اور جدوجہد میں اپنے طور پر شامل رہنے والا یہ طبقہ مسائل کی یکسوئی میں برقرار تعطل سے پریشانیوں میں مبتلا ہو رہا ہے ۔ نئی ریاست کی تشکیل کے بعد تمام طبقہ و شعبہ حیات کے افراد کی طرح ان وظیفہ یابوں کی امیدیں بھی وابستہ تھیں ۔ لیکن تشکیل ریاست اور خواہشات کے مطابق جو جماعت اقتدار میں آئی اس جماعت کی پالیسی سے بھی وظیفہ یاب تشویش کا شکار ہیں ۔ وظیفہ یابوں کا کہنا ہے کہ موجودہ طریقہ کے ذریعہ ادا کئے جانے والے وظیفوں ایڈیشنل پنشن پالیسی کے طریقہ کار کو بھی نقصان پہونچانے کے اقدامات جاری ہیں ۔ حالیہ دنوں اقدامات اور ایڈیشنل پنشن پالیسی کے تحت وظیفہ یاب طبقہ کافی خوش تھا ۔ جس کے سبب اضافی شدہ فٹ مینٹ کے ذریعہ وظیفہ میں اضافہ کی امید تھی ۔ تاہم حکومت نے اس ضعیفوں کو ایک اور جھٹکہ دے دیا ۔ اس کے علاوہ 1998 میں ریٹائرڈ ملازمین ادا شدنی 327 کروڑ روپئے کے بقایاجات بھی تاحال ادا نہیں کئے گئے ۔ ایسے ہی مسائل کی یکسوئی امید نئی ریاست اور نئی حکومت سے وظیفہ یابوں کی وابستہ تھیں۔ تاہم حکومت اس طبقہ کے مسائل کی یکسوئی میں ناکام نظر آرہی ہے ۔ وظیفہ یابوں کا الزام ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود ریاست میں اس اقدام کی عمل آوری نہیں کی جارہی ہے ۔ انہوں نے حکومت پر لاپرواہی کا الزام لگایا ۔ وظیفہ یابوں ایڈیشنل پنشن پالیسی کا بھی خوف پایا جاتا ہے ۔ اس عمر میں جبکہ وظیفہ حاصل ہو رہا ہے ۔ ایسے ضعیف طبقہ کی فکر میں اضافہ تعجب کا سبب نہیں ہوا ہے ۔ 75 سال مکمل کرنے والے وظیفہ یابوں کیلئے ایڈیشنل پنشن پالیسی منطور کرنے کا موجودہ نظام جاری ہے ۔ 15 فیصد زائد پنشن اس پالیسی کے تحت ادا کیا جاتا ہے ۔ 10 ویں پی آر سی نے بھی 70 تا 75 سال عمر کی تکمیل والے وظیفہ یابوں کو 15 فیصد زائد وظیفہ دینے کی سفارش کی تھی ۔ جس طرح عمر میں اضافہ ہوتا ہے ۔ اس طرح وظیفہ میں بھی اضافہ کیا جاتا ہے ۔ ایک ہی عہدہ پر خدمات انجام دیکر کچھ عرصہ قبل ریٹائرڈ اور اس عہدہ پر فی الحال ریٹائرڈ ہونے والے وظیفہ یابوں کو حاصل ہونے والے وظیفہ میں فرق ہوتا ہے ۔ جس کی نشاندہی 9 ویں پی آر سی نے بھی کی تھی ۔ اس سب حالات و اقدامات کے بعد 75 سال عمر مکمل کرنے والے وظیفہ یابوں کو بڑھتی عمر کے حساب سے وظیفہ کی رقم میں اضافہ اور زائد رقم دینے حکومت نے اتفاق کرلیا تھا ۔ تاہم موجودہ اس نظام کو بدلنے 5 سفارشات کرتے ہوئے 75 سال عمر کی حد میں تخفیف کرتے ہوئے 70 سال تک کردیا تھا ۔ 10 ویں پی آر سی نے بھی اس طرح کی سفارش کی تھی تاہم 70 سال کی عمر سے ایڈیشنل پنشن پالیسی پر عمل کرنے سے سرکاری خزانے پر زائد بوجھ عائد ہونے کے بہانے لاپرواہی سے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ اس کے علاوہ بقایاجات کو بھی جاری نہیں کیا جارہا ہے ۔ متحدہ ریاست کے وقت بقایاجات 900 کروڑ تھے اور اس لحاظ سے 327 کروڑ تلنگانہ کے حصہ میں آیا ۔ اس 327 کروڑ بقایاجات کی اجرائی سے 30 ہزار افراد کو فائدہ حاصل ہوگا ۔ تاہم اس طرح کے طریقہ کار و پالیسی سے ہر ماہ 10 کروڑ زائد بوجھ عائد ہونے کے اندیشہ سے حکومت مسئلہ کو تعطل کا شکار بنارہی ہے ۔ اس وجہ سے شائد گذشتہ 6 ماہ سے یہ فائیل چیف منسٹر کے یہاں التواء میں رکھی ہوئی ہے ۔