تلنگانہ بل کی منظوری سے قبل ہی تلنگانہ قائدین عہدوں کی دوڑ میں

حیدرآباد ۔ 17 ۔ فروری (سیاست نیوز) آندھراپردیش تنظیم جدید بل لوک سبھا میں منظوری کے مرحلہ میں ہے تو دوسری طرف کانگریس کے تلنگانہ قائدین میں عہدوں کی دوڑ کا آغاز ہوچکا ہے ۔ ریاست کے سیما آندھرا کانگریس قائدین پارلیمنٹ میں تلنگانہ بل کی منظوری کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن بل کی منظوری کے یقین کے ساتھ تلنگانہ قائدین اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ انہوں نے ہائی کمان کو چیف منسٹر اور ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدہ کیلئے ابھی سے اپنی دعویداری پیش کردی ہے۔ لوک سبھا میں تلنگانہ بل کی پیشکشی کے ساتھ ہی اس طرح کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگیا۔ اگرچہ مرکزی کابینہ کی جانب سے تلنگانہ بل کے حق میں فیصلہ کے بعد ہی تلنگانہ کے سینئر قائدین کی نظریں اہم عہدوں پر مرکوز ہوچکی تھیں لیکن لوک سبھا میں بل کی پیشکشی کے ساتھ ہی قائدین کے پاس امکانی کابینہ کی فہرستیں تیار ہونے لگی ہیں۔ کانگریس کے چند قائدین ایسے ہیں جو خود کو تلنگانہ کاز کا چمپین قرار دیتے ہیں اور انہیں چیف منسٹر کے عہدہ سے ہٹ کر کچھ بھی قبول نہیں۔ اعلیٰ طبقات کے علاوہ بی سی اور ایس سی طبقات سے تعلق رکھنے والے قائدین بھی اس دوڑ میں ہیں۔ کمزور طبقات کے قائدین کا ماننا ہے کہ تلنگانہ میں کانگریس ہائی کمان کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والوں کو چیف منسٹر کے عہدوں پر فائز کرے گا کیونکہ ٹی آر ایس نے بھی دلت کو چیف منسٹر بنانے کا اعلان کیا ہے ۔

چیف منسٹر کی دوڑ میں موجود قائدین اپنے اپنے حامیوں کے ساتھ علحدہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ ارکان اسمبلی کی تائید حاصل کی جاسکے ۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض قائدین نے تو اپنی وزارت کی فہرست بھی تیار کرلی ہے اور جونیئر ارکان اسمبلی کو اپنی کابینہ میں شامل کرنے کا لالچ دیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر کے علاوہ ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدہ کے بھی کئی دعویدار اچانک سرگرم ہوگئے اور اپنے حامیوں کے روبرو کھل کر اظہار کر رہے ہیں کہ ہائی کمان انہیں ڈپٹی چیف منسٹر مقرر کرے گا۔ عہدوں کے متمنی ان قائدین کو سونیا گاندھی کی وفاداری میں ایک دوسرے پر سبقت لیجاتے ہوئے دیکھا جارہا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے تلنگانہ مسئلہ پر سونیا گاندھی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہی تلنگانہ کے قائدین میدان میں کود پڑتے ہیں اور خود کو دوسرے سے زیادہ سونیا گاندھی کا وفادار ثابت کرنے سخت ترین الفاظ کے ساتھ مخالف پر تنقیدیں کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ بعض قائدین نے تو اپنے نام اور امکانی وزراء کے ناموں کی فہرست صدر کانگریس سونیا گاندھی ، نائب صدر راہول گاندھی اور اے آئی سی سی انچارج آندھراپردیش ڈگ وجئے سنگھ سے منظور کرانے کی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے۔ تلنگانہ کے ان قائدین کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے پارٹی کارکن حیرت میں ہیں اور نچلے کیڈر میں سینئر قائدین کی یہ سرگرمیاں مذاق کا موضوع بن چکی ہیں۔ تلنگانہ تحریک کے دوران یہ قائدین تو ایک ہی صف میں نظر آئے لیکن بل کی لوک سبھا میں پیشکشی کے ساتھ ہی وہ اپنے اپنے خانوں میں بٹ چکے ہیں اور اعلیٰ ترین عہدوں پر نظر لگائے ہوئے ہیں۔ اس طرح کے قائدین کیا واقعی ہائی کمان کی منظوری حاصل کر پائیں گے، اس کا اندازہ تو آنے والے دنوں میں ہوگا۔