حیدرآباد۔/11فبروری، ( سیاست نیوز) عثمانیہ یونیورسٹی تلنگانہ جے اے سی سے تعلق رکھنے والے قائدین اور طلباء کی کثیر تعداد نے نئی دہلی میں بی جے پی کے قومی قائد ایم وینکیا نائیڈو کی قیامگاہ پر احتجاج منظم کیا۔ پارلیمنٹ میں تلنگانہ بل کی منظوری کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے یہ احتجاج منظم کیا گیا۔ عثمانیہ یونیورسٹی جے اے سی کے کارکنوں نے وینکیا نائیڈو کی قیامگاہ کے گھیراؤ کی کوشش کی۔ انہوں نے وینکیا نائیڈو کو سیما آندھرا کا حمایتی قرار دیتے ہوئے نعرہ بازی کی۔ عثمانیہ یونیورسٹی جے اے سی کے قائد پی مورتی کی قیادت میں یہ احتجاج منظم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وینکیا نائیڈو ایک طرف تلنگانہ کی تائید کا اعلان کررہے ہیں تو دوسری طرف سیما آندھرا کے ساتھ مساوی انصاف کا بہانہ بناکر تلنگانہ بل کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے وینکیا نائیڈو کو دھمکی دی کہ وہ تلنگانہ بل کی مخالفت ترک کردیں ورنہ انہیں عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے طلباء نے کہا کہ بی جے پی ہائی کمان نے تلنگانہ بل کی تائید کا جو فیصلہ کیا ہے تمام قائدین کو اس کا پابند ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے تلنگانہ قائدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی قائدین کو بل کی تائید کے حق میں ہموار کریں۔