تلنگانہ بجٹ سیشن کا آج سے آغاز، ہنگامہ خیز ہونے کا امکان

حیدرآباد /6 مارچ ( سیاست نیوز ) تلنگانہ اسمبلی کے بجٹ سیشن کا کل سے آغاز ہو رہا ہے ۔ امکان غالب ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں ٹی آر ایس حکومت کو مختلف مسائل پر تنقید کا نشانہ بنائیں گی اور ایوان میں شور و غل کے ذریعہ کارروائی میں خلل پیدا کریں گی ۔ نئی ریاست تلنگانہ میں کسانوں کے خودکشی ، سوائن فلو اموات ، انتخابی وعدوں کو پورا کرنے میں حکومت کی مبینہ ناکامی کے بشمول کئی مسائل پر اپوزیشن پارٹیوں نے احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سابق وزیر اور کانگریس کے سینئیر لیڈر رام ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہاکہ کے چندر شیکھر راؤ زیر قیادت حکومت عوام کے توقعات کو پورا کرنے میں ناکام ہوئی ہے اور یہ حکومت اپنے انتخابی وعدے بھی پورے نہیں کرسکی ۔ ہم بجٹ سیشن کے دوران 24 اہم مسائل کو اٹھائیں گے ان میں کسانوں کے خودکشی ، ہلاکت خیز سوائن فلو کی وباء ، برقی بحران اور سکریٹریٹ کی منتقلی جیسے مسائل شامل ہیں ۔ حکومت کو تلنگانہ کے عوام کے سامنے جواب دے بنانے کیلئے مجبور کیا جائے گا ۔ کانگریس لیجسلیچر پارٹی کا آج اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف مسائل پر حکومت کا محاصرہ کرنے کی حکمت عملی کو قطعیت دی گئی ۔ تلگودیشم پارٹی کے سینئیر لیڈر نے کہا کہ ان کی پارٹی اپنے بعض ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دینے کا مطالبہ کرے گی جنہوں نے تلگودیشم سے انحراف کرکے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی ہے ۔ گورنر ای ایس ایل نرسمہن پہلے دن دونوں ایوان کے مشترکہ سیشن سے خطاب کریں گے ۔ حکومت 11 مارچ کو اپنا مکمل پہلا بجٹ پیش کرے گی ۔ کانگریس کے سینئیر لیڈر اور ایم ایل سی محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر کی جانب سے کئے گئے 101 وعدوں میں سے صرف تین وعدوں پر عمل کیا جارہا ہے ۔ دیگر 18 وعدوں پر جزوی عمل آوری ہو رہی ہے مابقی 80 وعدے جوں کا توں پڑے ہوئے ہیں ۔ جیسا کہ آندھراپردیش اور تلنگانہ کی اسمبلیاں ایک ہی کیمپس میں واقع ہیں پولیس نے دونوں ریاستوں کے بجٹ سیشن کیلئے سیکوریٹی کے وسیع تر انتظامات کئے ہیں ۔ آندھراپردیش اور تلنگانہ کی اسمبلیوں کے سیشن کو متوازی طور پر چلایا جائے گا ۔ اسپیکل مدھو سودھن چاری (تلنگانہ ) اور کوڈالا شیوا پرساد راؤ ( آندھراپردیش ) نے دونوں حکومتوں کے سینئیر عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا ہے ۔ آندھراپردیش اور تلنگانہ کے بجٹ سیشن کے موقع پر دونوں ریاستوں کی اپوزیشن پارٹیوں نے اپنے متعلقہ اسمبلی میں حکومت کے خلاف احتجاج کا منصوبہ بنایا ہے ۔ حکمراں پارٹیوں کو عوام سے مربوط مسائل سے واقف کروایا جائے گا اور بہبودی اسکیمات پر عمل آوری میں کوتاہی کے خلاف انتباہ دیا جائے گا ۔ 7 مارچ سے شروع ہونے والا یہ سیشن 27 مارچ تک جاری رہے گا ۔ 18 روزہ سیشن کے دوران امکان ہے کہ دونوں حکومتوں کو اپوزیشن کے شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے بھی اس سیشن کیلئے اپنی حکمت عملی تیار کرلی ہے جبکہ چیف منسٹر آندھراپردیش چندرا بابو نائیڈو نے اپنے رفقاء کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپوزیشن کی جارحانہ کارروائیوں کا سامنا کرنے کیلئے مکمل تیاری کرلیں۔