الاوہ بی بی پر تلنگانہ پرجا فرنٹ قائدین کی حاضری ، ویداکمار کا بیان
حیدرآباد ۔ 3 نومبر ( سیاست نیوز ) چیرمن تلنگانہ ریسور س سنٹر مسٹر ایم ویداکمار نے تلنگانہ کے مذہبی مقامات کو گنگاجمنی تہذیب کا مرکز قراردیتے ہوئے کہاکہ محرم اور دیگرمقدس مواقع پر مذہبی مقامات پر لوگ بلاتفریق مذہب‘ ذات پات جمع ہوکر دلی اور ذہنی سکون حاصل کرتے ہیں۔ آج یہاں ایس سی‘ ایس ٹی‘ بی سی ‘ مسلم فرنٹ وفد کے ہمراہ بی بی کا الاوہ دبیر پورہ پر حاضری کے بعد انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ تلنگانہ کی گنگاجمنی تہذیب ساری دنیا کے لئے ایک مثال تھی مگر پچھلے ساٹھ سالوں میںمنظم طریقے سے تلنگانہ کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے کاکام کیاگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ حیدرآباد کی قدیم تہذیب کے احیاء کے لئے ہماری مذہبی مقامات کی ترقی اور تشہیر ضروری ہے کیونکہ یہ ایسے مراکز ہیں جہاں پر تلنگانہ کے لوگ بلاتفریق مذہب اور ذات پات حاضری دیتے ہوئے دلی سکون حاصل کرتے ہیں۔ مسٹر ویدا کمار نے کہا شہر حیدرآباد بالخصوص پرانا شہر ایک قدیم تہذیبی اور ثقافتی مرکز ہے جس کو منظم سازش کے تحت تباہی کے دہانے پر پہنچانے کاکام کیا گیا ہے انہوں نے مزیدکہاکہ ہماری شناخت کو ختم کرنے کی تمام کوششوں کے خلاف ہمیںمنظم ہوکر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے تلنگانہ کی قدیم تہذیب کی بازیابی تک جدوجہد کو جاری رکھنے کی عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ شہر حیدرآباد کی بے مثال ترقی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بحالی ہی سنہری تلنگانہ ریاست کی حقیقی تشکیل ہوگی۔ ٹی آر ایس اسٹیٹ جنرل سکریٹری میرعنایت علی باقری جنھوں نے الاوہ بی بی پر حاضری دینے والے ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ بی سی ‘ مسلم فرنٹ کے وفد کا استقبال کیاتھا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ تلنگانہ کے تمام دس اضلاع میںعلم نکالے جاتے ہیں اور اس میںمسلمانوں سے زیادہ غیرمسلم افراد کی حصہ داری رہتی ہے انہوں نے مزیدکہاکہ اور کئی ایک مقامات پر غیرمسلم افراد خود اپنے گھر میںپوری عقیدت اور احترام کے ساتھ علم رکھتے ہیں۔انہوںنے حکومت تلنگانہ کی جانب سے اس سال کئے گئے محرم انتظامات کی ستائش کی اور کہاکہ آئندہ سال مزید بہتر انتظامات کی حکومت تلنگانہ سے توقع ہے۔ چیف کنونیر فرنٹ جناب ثناء اللہ خان نے بھی اس موقع پر ریاست کی عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ہمار ا اتحاد ہی ریاست تلنگانہ کی ترقی کی ضمانت ہوگا۔ کنونیر فرنٹ حیات حسین حبیب‘ اسلم عبدالرحمن‘ ساجد خان ‘ موہن رائو‘ سی ایل یادگیری کے علاوہ دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔