حیدرآباد ۔ 20 ۔ اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر محمد علی شبیر نے آندھراپردیش کے بجٹ میں اقلیتی بہبود کیلئے 371 کروڑ مختص کئے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے آندھراپردیش کے بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آبادی کے لحاظ سے تلنگانہ اور آندھراپردیش میں اقلیتوں کی تعداد میں کوئی خاص فرق نہیں۔ تلنگانہ میں اقلیتوں کی آبادی تقریباً 45 لاکھ ہے جبکہ آندھراپردیش میں 38 لاکھ اقلیتیں ہیں۔ اس کے باوجود آندھراپردیش حکومت کی جانب سے صرف 371 کروڑ کی منظوری اقلیتوں سے صریح ناانصافی ہے۔ انہوںنے کہا کہ ایک طرف تلنگانہ حکومت نے اقلیتوں کی بھلائی کیلئے 1000 کروڑ بجٹ مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو دوسری طرف خود کو اقلیتوں کی بھلائی کا چمپین قرار دینے والے چندرا بابو نائیڈو نے اقلیتوں کے ساتھ دھوکہ دہی کی ہے۔ انتخابی مہم اور پھر چیف منسٹر کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد حیدرآباد اور اضلاع میں اقلیتوں کے جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے چندرا بابو نائیڈو نے کئی وعدے کئے تھے
لیکن عملی طور پر یہ وعدے کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی سے قربت کے باعث چندرا بابو نائیڈو کا مسلم دشمنی کا رنگ چڑھنے لگا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ میں انہوں نے اقلیتوں کو نظر انداز کردیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ایک لاکھ 11 ہزار 824 کروڑ پر مشتمل بجٹ میں درج فہرست اقوام کی ترقی کے لئے 2657 کروڑ ، بی سی طبقہ کیلئے 3130 اور قبائل کی ترقی کیلئے 1150 کروڑ روپئے مختص کئے گئے جبکہ خواتین کی ترقی کے سلسلہ میں 1049 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے چندرا بابو نائیڈو سے سوال کیا کہ اقلیتوں کے مقابلے ایس ٹی طبقہ کی آبادی کم ہے، اس کے باوجود اقلیتی بجٹ سے چار گنا زائد بجٹ ایس ٹی طبقہ کیلئے مختص کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش کو سنگاپور بنانے کا خواب دیکھنے والے چندرا بابو نائیڈو کو اقلیتوں کی تعلیمی و معاشی ترقی سے کوئی دلچسپی نہیں۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ چندرا بابو نائیڈو حکومت اقلیتی طلباء کی فیس باز ادائیگی اسکیم اور 4 فیصد تحفظات پر عمل آوری ختم کردے گی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ بی جے پی سے قربت کے باعث چندرا بابو نائیڈو نے ایک بھی مسلم وزیر کو کابینہ میں شامل نہیں کیا اور نہ ہی ایک مسلم امیدوار کو وہ اسمبلی کیلئے منتخب کرانے میں کامیاب ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر چندرا بابو نائیڈو مسلمانوں کے ہمدرد ہوتے تو وہ پارٹی کے کسی قائد کو کونسل کی رکنیت کے ذریعہ کابینہ میں شامل کرسکتے تھے لیکن تشکیل حکومت کے بعد سے ان کے اقدامات مخالف مسلم پالیسیوں کے مظہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو نظر انداز کرنے پر آندھراپردیش کی اقلیتیں تلگو دیشم کو مناسب سبق سکھائیں گی۔