تلنگانہ اسمبلی میں 11 قراردادوں کی منظوری

ہائی کورٹ کی تقسیم، قانون ساز اداروں میں خواتین کیلئے تحفظات اور ضلع کھمم کے 7منڈلوں کی علحدگی سے دستبرداری کا مطالبہ

حیدرآباد۔/14جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں آج اپوزیشن کے شوروغل کے دوران 9مختلف موضوعات پر سرکاری قراردادیں منظور کرلی گئیں۔ تمام اپوزیشن جماعتوں نے اگرچہ ان قراردادوں کی تائید کی تاہم پولاورم کے مسئلہ پر اظہار خیال کا موقع نہ دیئے جانے سے تلگودیشم، بی جے پی اور کانگریس کے ارکان ناراض تھے۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے یہ قراردادیں پیش کیں اور ایوان سے اپیل کی کہ وہ ان غیر متنازعہ قرادادوں کو مباحث کے بغیر منظوری دے دیں۔ پولاورم پراجکٹ کی تعمیر کیلئے کھمم ضلع کے سات منڈلوں کو آندھرا پردیش میں ضم کرتے ہوئے مرکز کی جانب سے جاری کردہ آرڈیننس سے دستبرداری کا مطالبہ کرتے ہوئے چیف منسٹر نے پہلی قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ ریاست اور حکومت کی منظوری کے بغیر سرحدوں کی تبدیلی دستور کی دفعہ 3کے خلاف ہے لہذا حکومت کو چاہیئے کہ وہ آرڈیننس سے دستبرداری اختیار کرے۔ دوسری قرارداد میں تلنگانہ ریاست کو خصوصی ریاست کا موقف دیئے جانے کا مرکز سے مطالبہ کیا گیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ ریاست 85 فیصد کمزور طبقات پر مشتمل ہے جو کہ معاشی اور سماجی طور پر پسماندہ ہیں اس اعتبار سے تلنگانہ کو خصوصی ریاست کا درجہ دیا جانا چاہیئے۔ تلنگانہ کے 10اضلاع میں 8اضلاع کو پلاننگ کمیشن نے ملک کے پسماندہ اضلاع کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ وزیر اعظم نریندر مودی سے اپنی حالیہ ملاقات کے دوران بھی انہوں نے واضح کیا تھا کہ اگر آندھرا پردیش کے ساتھ خصوصی رعایت کا معاملہ کیا جائے تو تلنگانہ پر بھی اس کا نفاذ ہونا چاہیئے۔ انہوں نے مراعات اور دیگر سہولتوں کی فراہمی میں دونوں ریاستوں کے ساتھ یکساں سلوک کئے جانے کی مانگ کی اور کہا کہ صرف آندھرا پردیش کے ساتھ خصوصی رعایت کی صورت میں تلنگانہ سے ناانصافی ہوگی۔ تیسری قرارداد میں سنگارینی کالریز کے ملازمین کو تنخواہوں اور دیگر مراعات میں انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کی اپیل کی گئی۔ کے سی آر نے کہا کہ فوجی جوانوں کو اس طرح کی سہولت حاصل ہے۔ چیف منسٹر کی جانب سے پیش کردہ چوتھی قرارداد میں ایورسٹ کی چوٹی سر کرنے والے تلنگانہ کے دو طالب علموں مالاوتی پورنا اور آنند کمار کو مبارکباد پیش کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پورنا کا تعلق درج فہرست قبائیل سے ہے جبکہ آنند کمار درج فہرست طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان طلبہ نے انتہائی کم عمر میں ایورسٹ کی چوٹی سر کرتے ہوئے نہ صرف تلنگانہ بلکہ سارے ملک کا نام روشن کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالاوتی پورنا نے انتہائی کم عمری میں ایورسٹ کی چوٹی سر کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ ان دونوں کا تعلق نظام آباد اور کھمم سے ہے اور وہ غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ دونوں سماجی بھلائی کے اقامتی اسکول کے طلبہ ہیں۔ ایک اور قرارداد میں چیف منسٹر نے ان دونوں طلبہ کیلئے فی کس 25لاکھ روپئے کے انعام کا اعلان کیا۔
اس کے علاوہ ان کے ٹرینر شیکھر بابو کیلئے بھی 25لاکھ روپئے کے انعام کا اعلان کیا گیا۔ چیف منسٹر نے اعلان کیا کہ ان دونوں خاندانوں کو فی کس 5ایکر زرعی اراضی فراہم کی جائے گی ساتھ میں بورویل اور بورویل کی موٹر بھی دی جائے گی۔ انہوں نے مکان کی تعمیر کیلئے بھی مناسب امداد کا اعلان کیا۔ چھٹویں قرارداد میں تلنگانہ اسمبلی نے مرکز سے مانگ کی کہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کیلئے علحدہ علحدہ ہائی کورٹس کی تشکیل عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے بعد دونوں ریاستوں کے عوام اور ایڈوکیٹس اپنے علحدہ ہائی کورٹس کے منتظر ہیں لہذا حکومت کو اس سلسلہ میں عاجلانہ اقدامات کرنے چاہیئے۔ تلنگانہ اسمبلی کی ساتویں قرارداد میں خواتین کو پارلیمنٹ اور اسمبلی کی نشستوں میں ایک تہائی تحفظات فراہم کرنے کا مرکز سے مطالبہ کیا گیا۔ ساتھ ہی پارلیمنٹ میں خواتین تحفظات بل کی منظوری پر زور دیا گیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ آبادی میں خواتین 50فیصد ہیں لیکن قانون ساز اداروں میں ان کی نمائندگی صرف 10فیصد ہے۔ چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ نے پارلیمنٹ اور ملک کی تمام اسمبلیوں میں او بی سی طبقات کو 33فیصد تحفظات کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز اداروں اور فیصلہ سازی میں او بی سی طبقات کی نمائندگی میں اضافہ ناگزیر ہے۔ نویں قرارداد میں تلنگانہ اسمبلی نے مرکز سے مانگ کی کہ وہ بہبودی پسماندہ طبقات کی علحدہ وزارت قائم کرے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ملک کی کئی ریاستوں میں بہبودی پسماندہ طبقات کی وزارت نہیں ہے جبکہ ملک میں او بی سیز کی آبادی40تا50فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے وزیر اعظم چونکہ پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں لہذا انہیں چاہیئے کہ مرکزمیں او بی سی کی بھلائی سے متعلق علحدہ وزارت قائم کریں۔ کانگریس، تلگودیشم، بی جے پی، سی پی ایم، سی پی آئی، وائی ایس آر کانگریس اور دوسروں نے ان قراردادوں کی تائید کی جنہیں اسپیکر مدھوسدن چاری نے ندائی ووٹ سے منظوری دی۔