محکمہ آبرسانی و برقی کی ملی بھگت ، منتخب نمائندوں کی سرپرستی
حیدرآباد ۔15 مئی (سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے مختلف علاقوں بالخصوص پرانے شہر کے بیشتر علاقوں میں تعمیری اجازت ناموں کے نام پر عوام کو ہراساں کرنے کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ کئی علاقوں میں مقامی سیاسی لیڈرس اپنے مقاصد براری کیلئے عوام کو ہراساں کرتے ہوئے تعمیری اجازت ناموں کے علاوہ دیگر اہم دستاویزات و اجازت ناموں کیلئے متعلقہ محکمہ جات میں شکایات درج کرواتے ہوئے بھاری معمول وصول کرنے لگے ہیں۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے کارپوریٹرس کی میعاد کی تکمیل کے بعد علاقہ واری سطح پر مقامی سیاسی قائدین کی من مانی میں زبردست اضافہ ہوچکا ہے اور یہ لوگ بلدی عہدیداروں کے علاوہ آبرسانی و محکمہ برقی کے عہدیداروں سے ملی بھگت کے ذریعہ عوام کو ہراساں کرتے ہوئے بھاری رقومات وصول کررہے ہیں۔ شہر کے کئی علاقوں میں زیرتعمیر عمارتوں کے مالکین کو ہراسانی کی متعدد شکایات موصول ہورہی ہے لیکن اس کے باوجود منتخبہ عوامی نمائندوں کی جانب سے اختیار کردہ خاموشی سے ایسا محسوس ہورہا ہیکہ ہراساں کرنے والوں کو ان کی سرپرستی حاصل ہے۔ ان لوگوں کا جو طریقہ کار ہے اس کے مطابق یہ لوگ بلدیہ کے بعض عہدیداروںکو اپنا ہمنوا بناتے ہوئے زیرتعمیر مکان کے مالکین کو دھمکانے لگتے ہیں اور اجازت ناموں کے علاوہ دیگر امور میں غیر قانونی تعمیر کی دھمکیوں سے خوفزدہ کرتے ہوئے معاملہ فہمی کیلئے انہیں مدعو کیا جاتا ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے تعمیری اجازت ناموں کے حصول میں موجود دشواریوں کو اگر کم کیا جائے یا ختم کرنے کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں ممکن ہیکہ عوام کو ان سیاسی درمیانی افراد سے نجات حاصل ہوسکتی ہے چونکہ جی ایچ ایم سی کے سخت قوانین اور رشوت کے چلن کے سبب عوام ان محلہ واری سطح کے سیاسی لیڈروں کے ہاتھ کھلونا بننے پر مجبور ہورہے ہیں۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد سے رشوت کے خاتمہ کو یقینی بنانے کیلئے یہ ضروری ہیکہ بلدیہ میں سب سے پہلے تعمیری اجازت ناموں کے معاملات کو بہتر بناتے ہوئے انہیں سہل کیا جائے تاکہ ہر شہری اپنی ضرورت کے مطابق تعمیری اجازت نامہ حاصل کرسکے۔