رویندرا بھارتی میں منعقدہ روزگار ورکشاپ سے پروفیسر نریندر ناتھ ، محمد حامد ، مسٹر چرن کیرتک کے لکچر
حیدرآباد ۔ 5 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : ملازمتوں کے حصول کے لیے جہاں سرکاری محکمہ جات کے لیے رکروٹمنٹ مسابقتی امتحانات ہوتے ہیں وہیں پر پرائیوٹ اور کارپوریٹ سکٹر میں سی وی موثر دیکھی جاتی ہے ۔ شخصی انٹرویو اور گروپ مباحثہ ہوتا ہے ۔ آج طالب علم تعلیم کے تکمیل کے بعد ڈگریاں حاصل کررہے ہیں ۔ لیکن ان میں مسابقت کا نہ جذبہ ہے اور نہ وہ مسابقتی امتحانات کی تیاری کرتے ہیں اور نہ ان سے واقف ہیں ۔ اس کے لیے روزگار کے ورکشاپ اور سمینار نہایت معاون موثر اور مفید ثابت ہوتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر نریندر ناتھ چرن کیرتک اور رنگاریڈی کلکٹریٹ کے جاب ڈیولپمنٹ مینجر مسٹر محمد حامد نے یہاں رویندرا بھارتی میں منعقدہ اپنے توسیعی لکچرس میں کیا اور متلاشیان روزگار کو مثبت سوچ پیدا کرنے اور منفی سوچ کو دور کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ حصول روزگار کے لیے درکار ضروریات کی تکمیل کریں ۔ نوجوان لڑکے ہو یا لڑکیاں اپنے آپ کو ہر اعتبار سے تیار کریں تعلیمی قابلیت کے ساتھ ملازمت کی اہلیت دیکھی جاتی ہے ۔ اس لیے وہ اپنے آپ کو اہل بنائیں ۔ انگریزی زبان میں مہارت لب و لہجہ کے ساتھ انداز مثبت سوچ و فکر کے ساتھ کچھ کرنے کی جستجو کریں اور جاب مارکٹ میں جن افراد کی ضرورت ہے اپنے آپ کو ایسے تیار کریں ۔ پروفیسر نریندر ناتھ نے مینجمنٹ اسٹیڈیز کے حوالہ سے زندگی کے ہر شعبہ اور ہر کام میں وقت کی اہمیت اور مینجمنٹ کے موثر اصول بتائے اور کہا کہ کام کا بھی مینجمنٹ ہوتا ہے اور یہی کامیابی کا عنصر کہلاتا ہے ۔ مسٹر چرن کیرتک نے انجینئرنگ طلبہ کو جن کی اکثریت ہر سال انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کررہی ہے لیکن وہ اپنے آپ کو ملازمت کے حصول کے بعد کام کرنے کے اہل بتانے سے قاصر ہے ۔ اس کو مزید ٹریننگ درکار ہوتی ہے ۔ مسٹر محمد حامد جاب ڈیولپمنٹ مینجر رنگاریڈی کلکٹریٹ نے اقلیتی طلبہ کو سرکاری ملازمت کے حصول کا مشورہ دیتے ہوئے اس کے لیے صحیح حکمت عملی کے ساتھ منظم منصوبہ بندی مرکز کے رکروٹمنٹ مسابقتی امتحانات کے ساتھ ریاستی حکومت کے محکمہ جات میں تقررات کے لیے سخت مسابقت کا سامنا کرنے تیاری کرنا چاہئے ۔ جناب احمد بشیر الدین فاروقی ڈپٹی ایجوکیشنل آفیسر ریٹائرڈ نے صدارت کی اور دئیے گئے لکچر پر اپنے صدارتی نکات کے حوالے سے امیدواروں کو بھر پور استفادہ کا مشورہ دیا ۔ خواجہ علی شعیب ، منور علی ، پروفیسر ہارون کو ایوارڈس عطاکئے گئے ۔ شیخ نوید نے کارروائی چلائی ۔ ایم اے حمید نے پروگرام کے انعقاد کے لیے مکمل معاونیت کی ۔۔