تشکیل تلنگانہ کیلئے 1200 نوجوانوں کی موت کی کانگریس ذمہ دار

کانگریس تلنگانہ عوام سے معذرت خواہی کرے ، جئے رام رمیش سے کھمم ضلع کو نقصان ، کے ٹی راما راؤ
حیدرآباد ۔ 16 ۔ اپریل (سیاست نیوز) ٹی آر ایس نے صدر کانگریس سونیا گاندھی سے مطالبہ کیا کہ تشکیل تلنگانہ کے لئے قربانی دینے والے 1200 سے زائد نوجوانوں کی موت پر تلنگانہ عوام سے معذرت خواہی کریں۔ پارٹی کے رکن اسمبلی کے ٹی راما راؤ نے آج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تلنگانہ کی تشکیل میں تاخیر کیلئے کانگریس پارٹی کو ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 10 سال قبل سونیا گاندھی نے کریم نگر میں تلنگانہ کی تائید کی تھی لیکن اس کی تشکیل کیلئے 10 سال لگ گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس اپنے وعدہ پر بروقت عمل کرتی تو 1200 نوجوانوں کی جانیں قربان نہ ہوتیں۔ انہوں نے صدر کانگریس سے مانگ کی کہ

وہ تشکیل تلنگانہ میں تاخیر کی وجوہات سے عوام کو واقف کراے۔ انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی کے تلنگانہ دورے سے کانگریس کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ ٹی آر ایس کی تحریک کے باعث علحدہ ریاست حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کانگریس کے تلنگانہ قائدین کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ پارٹی قیادت کو خوش کرنے کیلئے تلنگانہ قائدین ٹی آر ایس اور اس کی قیادت کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ صدر پی سی سی پونالہ لکشمیا کی جانب سے کے سی آر پر تنقید کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کی قیادت کے سی آر نے کی تھی جبکہ تحریک کے دوران پونالہ لکشمیا امریکہ میں تھے لہذا انہیں کے سی آر پر تنقید کا کوئی اخلاقی حق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے تشکیل تلنگانہ کے ساتھ کھمم کے 7 منڈلوں کو سیما آندھرا میں ضم کرتے ہوئے علاقہ کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ 7 منڈلوں سے تعلق رکھنے والے قبائلی چاہتے تھے کہ وہ تلنگانہ کا حصہ برقرار رہیں لیکن جئے رام رمیش نے ان علاقوں کو سیما آندھرا میں شامل کردیا۔ کے ٹی آر نے کانگریس کے تلنگانہ قائدین سے مطالبہ کیا کہ وہ سونیا گاندھی سے اس بات کا اعلان کرائیں کہ پولاورم پراجکٹ کے ڈیزائن میں تبدیلی کی جائے گی ۔ موجودہ ڈیزائن کے ساتھ پراجکٹ کی تعمیر کی صورت میں تلنگانہ سے ناانصافی ہوگی ۔ ٹی آر ایس اس مسئلہ پر قانونی جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کانگریس قائدین عوامی ہمدردی حاصل کرنے کیلئے جھوٹے وعدے کر رہے ہیں۔

فلم اسٹار پون کلیان کی جانب سے جنا سینا کے قیام پر تبصرہ کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ یہ جنا سینا نہیں بلکہ مودی بھجن سینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پون کلیان کی جانب سے بی جے پی کے حق میں انتخابی مہم کا تلنگانہ میں کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ کانگریس پارٹی کو ڈوبتی کشتی قرار دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ ملک میں کانگریس کو لوک سبھا کی 70 نشستیں بھی حاصل نہیں ہوں گی۔ انہوں نے تلنگانہ عوام سے کہا کہ وہ اپنے ووٹ کا استعمال دانشمندی کے ساتھ کریں کیونکہ کانگریس کو ووٹ دینا اپنا ووٹ ضائع کرنا ہے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس واضح اکثریت حاصل کرے گی اور تشکیل تلنگانہ سے قبل کئے گئے تمام وعدوں کی تکمیل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ علحدہ ریاست کی تشکیل کے وقت مرکزی حکومت نے تلنگانہ کیلئے خصوصی پیاکیج کا اعلان نہیں کیا جبکہ تقسیم کے ذریعہ تلنگانہ کے ساتھ مختلف شعبوں میں ناانصافی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے سیما آندھرا کیلئے خصوصی پیاکیج کو منظوری دی ہے جس میں کئی مراعات اور ٹیکس رعایتیں شامل ہیں۔