موگادیشو 22 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) صومالیہ کے دارالحکومت موگادیشو میں آج ایک ہوٹل پر کئے گئے خود کش کار بم حملہ میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ترکی کے صدر یہاں کا دورہ کرنے والے ہیں۔ پولیس اور عینی شاہدین نے یہ بات بتائی ۔ ہوٹل کے ذرائع نے کہا کہ حملہ کے وقت ہوٹل میں تقریبا 70 رکنی ترک وفد موجود تھا تاہم اس حملہ اور دھماکہ میں ترک وفد کا کوئی رکن زخمی نہیں ہوا ۔ یہ ہوٹل موگادیشو کے انتہائی سکیوریٹی والے صدارتی محل سے قریب ہے ۔ حالانکہ یہاں اس طرح کے حملوں کیلئے اکثر و بیشتر القاعدہ سے الحاق رکھنے والے الشباب گروپ کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے لیکن ابھی تک اس حملہ کی کسی نے بھی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے ۔ الشباب گروپ صومالیہ کی حکومت کو بیدخل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے جسے مختلف ممالک کی تائید و حمایت حاصل ہے ۔ اس گروپ کی جانب سے یہاں کئی حملے کئے گئے ہیں۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردغان جمعہ کو موگادیشو پہونچنے والے ہیں ۔ صومالیہ کیلئے یہ کسی بیرونی صدر مملکت کا شاذ و نادر ہونے والا دورہ ہے ۔ عہدیداروں نے کہا کہ اس حملے کے باوجود ترکی کے صدر کا دورہ صومالیہ برقرار رہے گا ۔ پولیس عہدیدار محمد عدن نے کہا کہ اس حملہ میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں تین سکیوریٹی گارڈز بھی شامل ہیں۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ اس نے ایک تیز رفتار کار کو ہوٹل کے باب الداخلہ تک جاتے اور وہاں دھماکہ سے شعلہ پوش ہوتے ہوئے دیکھا ہے ۔ ہوٹل کے اطراف کے علاقہ کو فوری طور پر مہربند کردیا گیا ہے ۔