ترقی کے مسئلہ پر کانگریس قائدین کو مباحث کا چیلنج

وزیر برقی جگدیش ریڈی کا بیان، نلگنڈہ کی پسماندگی کیلئے کانگریس ذمہ دار
حیدرآباد۔/21جولائی، ( سیاست نیوز) وزیر برقی جگدیش ریڈی نے کانگریس قائدین کو ضلع نلگنڈہ کی ترقی کے مسئلہ پر کھلے مباحث کا چیلنج کیا اور کہا کہ نلگنڈہ کے کانگریس قائدین نے ضلع کی ترقی کو نظر انداز کردیا تھا۔ ٹی آر ایس برسراقتدار آنے کے بعد سے ضلع کی ہمہ جہتی ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے اور کانگریس قائدین حکومت پر الزام تراشیوں میں مصروف ہیں۔ وزیر برقی نے کہا کہ اتم کمار ریڈی، جانا ریڈی اور کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کا تعلق نلگنڈہ سے ہے لیکن کانگریس دور اقتدار میں انہوں نے ضلع میں آبپاشی پراجکٹس پر توجہ نہیں دی جس کے نتیجہ میں ضلع کے کئی علاقے زرعی اغراض کیلئے پانی سے محروم رہے۔ وزیر برقی نے ڈِنڈی پراجکٹ کے ذریعہ زرعی شعبہ کیلئے پانی کی اجرائی کا آج افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس پراجکٹ کے تحت کسان کافی خوش ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کلواکرتی لفٹ اریگیشن پراجکٹ کے تحت ڈِنڈی پراجکٹ کو زرعی اغراض کیلئے پانی سیراب کرنے کے قابل بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے پانی کی ہر بوند کے استعمال کی ہدایت دی ہے تاکہ ریاست میں ایک کروڑ ایکر اراضی کو سیراب کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ دیور کنڈہ علاقہ کے مسائل کو طویل عرصہ سے نظر انداز کردیا گیا ۔ کانگریس کے نلگنڈہ سے تعلق رکھنے والے قائدین اقتدار کے وقت اگر اس علاقہ پر توجہ مرکوز کرتے تو آج اس علاقہ کی یہ حالت نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ موسی پراجکٹ کے تحت 25 جولائی تک ذیلی کنالوں کو پانی کی اجرائی عمل میں آئے گی۔ فلورائیڈ سے متاثرہ علاقے کیلئے صاف پینے کے پانی کی سربراہی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ جگدیش ریڈی نے کہا کہ نلگنڈہ کے عوام آئندہ عام انتخابات میں کانگریس کو سبق سکھانے کا تہیہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور ٹی آر ایس دور حکومت میں ضلع کی ترقی پر وہ کھلے مباحث کیلئے تیار ہیں۔ جانا ریڈی، اتم کمار ریڈی اور کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی میں سے کوئی بھی مباحث کیلئے تیار ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں نے جب اپنے حق کا مطالبہ کیا تو کانگریس قائدین نے الٹا لاٹھی چارج کرایا۔ کسانوں پر مظالم کی تاریخ سے کانگریس بھری پڑی ہے۔ وزیر برقی نے کہا کہ کانگریس قائدین آج کسانوں سے ہمدردی کا اظہار کررہے ہیں لیکن کسان ان کی اس جھوٹی ہمدردی سے بہکاوے میں آنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ناگر جنا ساگر پراجکٹ کے تحت کانگریس پارٹی زرعی شعبہ کو پانی سیراب کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس زیر اقتدار ریاستوں میں بھی زرعی شعبہ کیلئے برقی کی سربراہی کا اس قدر بہتر نظم نہیں ہے جس طرح تلنگانہ میں کے سی آر حکومت نے کیا ہے۔ کسانوںکو 24 گھنٹے مفت برقی کی سربراہی پر ملک میں پہلی مرتبہ ٹی آر ایس حکومت نے عمل کیا ہے۔ جگدیش ریڈی نے کے سی آر حکومت کی فلاحی اسکیمات سے اپوزیشن قائدین کی نیند اُڑ چکی ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ بارہا کہہ چکے ہیں کہ 14 سال کی جدوجہد کے بعد تلنگانہ ریاست حاصل ہوئی ہے اور ہمیں عوام کی توقعات اور خواہشات کی تکمیل کیلئے ہرممکن مساعی کرنی چاہیئے۔ عوام کی توقعات کو پورا کرنا ٹی آر ایس اپنا اولین فرض تصور کرتی ہے۔