تربوزموسم گرما کی سب سے بہترین سو غات ، کئی بیماریوں کے لئے ایک ڈھا ل

تربوز کھانے کے بعد پانی پینے سے نقصان کا مفروضہ غلط،کھانے سے فوراًپہلے یا فوراً بعدتربوز کھانے سے گریز کامشورہ

حیدرآباد24مارچ( سیا ست ڈاٹ کام) تپتی دھو پ میں جب سور ج سر پر ہو تا ہے غضب کی گرمی پڑتی ہے اور کسی بھی طر ح چین حاصل نہیں ہو تا۔ پیا س کا شدت سے احساس ہو تاہے تو ایسے میں تر بو ز نہ صرف پیا س بجھا تا ہے بلکہ جسم کو توانائی اور فرحت بھی بخشتا ہے۔ شیریں ذائقے کی وجہ سے پو ری دنیا میں ذوق و شوق سے کھا یا جا تا ہے۔ تر بو ز اپنی خصوصیا ت کی بناء پر ایک صحت مند پھل ہے جبکہ دیگر پھلو ں کی بہ نسبت اس کی قیمت بھی کم ہو تی ہے۔ جسم کی قوت اور توانائی کے لیے اور جسم میں پا نی کی کمی کی ضرورت پوری کرنے کی غرض سے استعمال کرنا چاہیے۔ اس میں فولا د ، فاسفورس ، روغنی اجزا، پو ٹاشیم ، نشا ستے دار شکر ی اجزا ء اور وٹامن اے ،بی اور ڈی کے علا وہ گلو کو ز بھی ہو تا ہے۔ تر بو ز میں گلوکو ز وافر مقدار میں ہوتا ہے۔ اس لیے پانی میں گلوکو ز پاؤڈر ڈال کر پینے سے بہتر ہے کہ تربوز کے وٹا منز کو استعمال کیا جائے۔ تر بو ز کا مزاج سرد تر ہوتاہے چنا نچہ یہ مو سم گرما کی شدت اور لوکے اثرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ تر بو ز کو اگر صبح نہا ر منہ استعمال کیا جائے تو جسم کو پورے دن جو پانی کی ضرورت ہو تی ہے اس سے پوری کی جا سکتی ہے۔ تربو ز کو کھا نا کھا نے کے فوراً بعد یا فوراً پہلے استعمال نہیں کر نا چاہیے کیونکہ کھانا دیر سے ہضم ہو تاہے اور تر بو ز تیزی سے ہضم ہو تاہے۔کھا نا تربوز کے جلد ہضم ہونے میں رکا وٹ بنتا ہے۔ اس لیے بد ہضمی اور دستوں کی شکا یت ہو سکتی ہے۔

تر بو ز کھا نا کھانے کے دو سے تین گھنٹے بعد کھا نا چاہیے ۔ تر بوز کے متعلق یہ وہم ہے کہ اسے زیا دہ کھا نے سے ہیضہ ہوجا تاہے یا تر بو ز کے بعد پا نی پینے سے نقصان ہو تاہے، یہ مفروضہ غلط ہے۔ تر بو ز میں خو د 93% پانی ہو تا ہے اس لیے مزید پانی سے کسی ردِ عمل کا خطرہ نہیں ہوتا۔ تربوز کھا نے کے فوراً بعد خو ن میں پانی اور گلو کو ز کی مقدار میں اضا فہ ہو جا تاہے۔ گلوکو ز خلیا ت میں تیزی سے جذب ہو کر کمزوری ،د رد سر اور گھبراہٹ کی علا مات کو ختم کر دیتا ہے جبکہ اس کا پانی دوران خون میں شامل ہو کر رگو ں میںگر دش کر تا ہواگردو ں میں پہنچتا ہے جہا ں خون کی صفا ئی ہو تی ہے اور پانی کی زائد مقدار پیشاب کے را ستے جسم سے خارج ہو جاتی ہے۔ تر بو ز میں وٹامنز کی خاصی مقدار کی وجہ سے بھی یہ فائدہ مند ہے۔ اس میں موجود وٹامن اے جسم میں بیما ریو ں کے خلاف قوت مدافعت پید ا کر تا ہے۔یہ مریضو ں اور بچوں کو بھی منا سب مقدار میں کھلا یا جا سکتا ہے۔ حکماء کے مطابق، تر بو ز میں پانی کی زیادہ مقدار اور غذائیت کی وجہ سے یر قان کے مریضو ں کے لیے بھی مفید ہے۔ یہ حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی خوا تین کے لیے بھی مفید ہے ۔ اگر نظام ہضم درست نہ ہو تو سیا ہ مر چ ، سفید زیرہ اور نمک پیس کر رکھ لیں تر بو ز کے ٹکڑے کا ٹ کر اس پر چھڑک کر کھائیں نہ صرف یہ زیا دہ لذیذ ہو جا تا ہے بلکہ ہاضمے کی بہترین دوا بن جاتاہے اور نظام ہضم کی اصلا ح کر تا ہے۔ ہائی بلڈپریشر کی صور ت میں تربو ز کھا نے سے پیشا ب زیا دہ مقدار میں آتا ہے اسطر ح بلڈ پریشر کم ہو جا تاہے جبکہ لو بلڈ پریشر میں دل کو فرحت بخشتا ہے اور توانائی کے لیے گلوکوز فراہم کر تا ہے۔ سر کا درد ، گرمی سے ہوتو ایک گلا س تربوز کا رس لیکر اس میں مصری ملائیں اور صبح کے وقت پئیں۔ چند دن پینے سے سر درد دورہو جا ئے گا۔ گر دو ں اور مثانے کی گرمی کو ختم کر نے کے لیے روزانہ تر بوز کھائیں۔ اگر تربو ز کا مو سم نہ ہو تو اسکے بیج (چھلے ہوئے) پانی میں گھوٹ کر سر دائی بنا کر پی لیں، حرارت ختم ہو جائے گی۔ بار با ر پانی پینے سے بھی پیاس کی شدت کم نہ ہو تو دن میں تین بار تربوز کا پانی پلا نے سے پیا س کی شدت فوراً دور ہو جاتی ہے۔قبض دور کرنے کی دواؤں کے ساتھ تربوز کا استعمال بہت مفید ہے۔ تر بو ز پیشا ب آور ہے چنانچہ یہ گردے اور مثانے میں پتھری بننے کے عمل کو روکتا ہے۔ معدے کی سوزش اور پیشاب کی جلن کو بھی ختم کر دیتا ہے۔