تحویل اراضی بل سے دستبرداری خارج از امکان، نتن گڈکری

نئی دہلی ۔ 19 مئی (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر نتیش گڈکری نے آج تحویل اراضی بل سے دستبرداری کو خارج از امکان قرار دیا ہے اور کہا کہ حکومت، کسانوں کے مفادات میں مزید ترامیم پیش کرنے کیلئے کھلا ذہن رکھتی ہے اور حکومت اس بل پر خدشات دور کرنے کیلئے دوسری جماعتوں سے مشاورت کرے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس محض سیاسی وجوہات کی بناء اس بل کی مخالفت کررہی ہے اور اپنے ایجنڈوں کے مطابق حکومت کے خلاف گمراہ کن مہم چلا رہی ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ تحویل اراضی بل سے انحراف کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور قوم کے مفادمیں جو کچھ بھی ہوگا زورزبردستی سے کیا جائے گا۔

مسٹر نتن گڈکری نے کہا کہ حکومت نے راجیہ سبھا میں اپوزیشن کی تائید حاصل کرنے کیلئے بات چیت کی ہے، جہاں پر این ڈی اے اقلیت میں ہے اور یہ نشاندہی کی کہ بیجو جنتادل نے بھی اراضی بل کی تائید کا اعلان کیا ہے۔ یہ دریافت کئے جانے پر کہ راجیہ سبھا میں بل کی منظوری نے ارکان کو حکومت کس طرح قائل کروائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو مطمئن کرنے کیلئے حکومت مزید ترامیم پیش کرنے کیلئے آمادہ ہے۔ انہوں نے یہ نشاندہی کی کہ حکومت نے اب تک 9 ترامیم پیش کردی ہیں اور مثبت تجاویز کیلئے امکانات کھلے رکھے گئے ہیں۔ اگر تجاویز بہتر ہوں تو وزیراعظم نریندر مودی قبول کرلیں گے جبکہ بیجو جنتادل اراضی بل پر ہماری تائید کیلئے پیشقدمی کی ہے۔ ہم پر تکبر اور آمرانہ روش اختیار کرنے کا الزام ہے۔

لہٰذا ہم اب ہاتھ جوڑ کر سب کے سامنے جائیں گے۔ اگر وہ مان جائیں گے تو بہتر ہے۔ اگر وہ مخالفت جاری رکھیں گے تو ہم اگلا قدم اٹھائیں گے۔ بی جے پی کی حلیف شیوسینا اور سوابھیمان پکشا کی جانب سے تحقیقات کے اظہار پر مسٹر نتن گڈکری نے کہا کہ ہر ایک کے پاس الگ الگ تیر کمان ہیں جن پر یہ محاورہ صادق آتا ہیکہ کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ ہے۔ واضح رہیکہ حکومت نے اپوزیشن کے دباؤ کے تحت متنازعہ بل کو پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی سے رجوع کردیا ہے جوکہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کی شروعات میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی جبکہ حکومت نے تحویل اراضی بل کی پارلیمنٹ میں منظوری نہ ملنے پر دو مرتبہ آرڈیننس نافذ کیا ہے۔