تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ

لکھنو۔17اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) اترپردیش حکومت کی کمیٹی نے سہارنپور فسادات کو بی جے پی ایک رکن پارلیمنٹ کی جانب سے کی گئی اشتعال انگیزی کا نتیجہ قرار دیا ۔ اس کمیٹی نے فسادات پر قابو پانے میں مقامی عہدیداروں کی کوتاہیوں کو ذمہ دار قرار دینے کے علاوہ سیاسی پارٹیوں کی فائدہ حاصل کرنے کی ناپاک کوشش کا بھی تذکرہ کیا ہے ۔ سہارنپور فسادات کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی رپورٹ پر اترپردیش کی سیاسی پارٹیوں میں زبردست بحث چھڑ گئی ہے ۔ بی جے پی نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی مقصد برابری پر مبنی رپورٹ ہے ۔ سماج وادی پارٹی حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے دوسروں پر الزام عائد کررہی ہے ۔ کمیٹی نے یہ رپورٹ چیف منسٹر اکھلیش یادو کو پیش کی ‘ اس میں بی جے پی کے ایک رکن پارلیمنٹ کا نام شامل کیا گیا ہے جن کی اشتعال انگیزی کی وجہ سے ہی فسادات بھڑک اٹھے تھے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نظم ونسق کی تساہلی کے باعث ہی فسادات بھڑک اٹھے ۔ سہارنپور فسادات میں بی جے پی کے رول پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اشتعال انگیزی کے باعث عوام نے پُرتشدد مظاہرے کئے ۔

یو پی کے وزیر شیوپال یادو کی زیر قیادت پانچ رکنی کمیٹی نے 26جولائی کو ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کی تحقیقات کرتے ہوئے رپورٹ پیش کی ہے ۔ ان فسادات میں 3افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بی جے پی کے مقامی رکن پارلیمنٹ راگھولکھن پال نے فسادیوں کو بھڑکایا تھا ‘ اس کی وجہ سے آتشزنی کے واقعات رونما ہوئے ۔ لکھن پال نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سماج وادی پارٹی گھٹیا سیاست پر اتر آئی ہے جو ایک خاص طبقہ کی دلجوئی کرتے ہوئے اترپردیش میں اسمبلی انتخابات سے قبل اپنا ووٹ بینک مضبوط کرنا چاہتی ہے ۔ سہارنپور میں ایم پی لکھن پال نے کہا کہ یہ رپورٹ سیاسی مقصد پر مبنی ہے ‘ میں نے تشدد کو روکنے کیلئے ہر ممکنہ کوشش کی تھی۔کمیٹی کی اس رپورٹ پر بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کے مابین لفظی بحث شروع ہوگئی ہے ۔ کانگریس اور بی ایس پی نے فسادات کیلئے ان دونوں جماعتوں کو موردِ الزام قرار دیا ۔