مسلم اقلیتوں کیساتھ کئے گئے وعدوں کو مکمل کرنے کی ضرورت : الم نارائنا
حیدرآباد۔23 مارچ (سیاست نیوز)علیحدہ تلنگانہ کے نعرے پر اقلیتوں کے علاوہ ایس سی‘ ایس ٹی‘ بی سی طبقات نے سیاسی جماعتوں کا مکمل تعاون کیا خواہ وہ کانگریس ہو یا پھر ٹی آر ایس ‘ بی جے پی ہو یا پھر سی پی ائی تلنگانہ حامی تمام سیاسی جماعتوں کی آواز پر تلنگانہ کی چار کروڑ عوام بالخصوص مسلم اقلیت نے علیحدہ تلنگانہ کی مکمل تائید وحمایت کی۔ سماجی جہدکار وتلگو روزنامہ نمستے تلنگانہ کے ایڈیٹر مسٹر الم نارائنہ نے مجوزہ ریاست تلنگانہ میں مسلمانو ںکو آبادی کی مناسبت سے تحفظات کا مطالبہ کیا ۔ نارائنا نے کہاکہ اب جبکہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل عمل میں آرہی ہے تو ان حالات میںتلنگانہ کی تمام سیاسی جماعتو ں پر یہ ذمہ دار ی عائد ہوجاتی ہے کہ وہ تلنگانہ تحریک کے دوران مسلم اقلیت کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو عملی جامعہ پہنائیں۔
مسٹر الم نارائنا نے کہاکہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد نئی ریاست میں مسلم اقلیت کی آبادی کے تناسب میںاضافہ ہوگا اور ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کے مسائل بھی بڑھ جائیں گے جس کو حل کرنے کے لئے مجوزہ ریاست تلنگانہ میں برسراقتدار آنے والی سیاسی جماعتوں کے پاس جامع منصوبہ سازی ضروری ہے۔ انہوں نے تمام شعبہ حیات میںمسلم اقلیت کو آبادی کے تناسب سے تحفظات کی فراہمی کو سنہری تلنگانہ ریاست کی تشکیل میںمعاون قراردیتے ہوئے کہاکہ مجوزہ انتخابات تلنگانہ میںسرگرم سیاسی جماعتوں کے مسلم اقلیت کے متعلق اپنا موقف واضح کرنے کا بہترین موقع ہے جس کے ذریعہ پچھلے ساٹھ سالوں سے استحصال کا شکار مسلم اقلیت میں اعتماد بھی بحا ل کیاجاسکے گا۔انہوں نے کہاکہ پسماندگی کا شکار طبقات کو تحفظات اور مراعات فراہم کرنا ریاستی اور مرکزی حکومتوں کی ذمہ داری ہے اور تحفظات اور مراعات پسماندگی کاشکار طبقات کا حق بھی ہے ۔ انہوں نے تحفظات او رمراعات سے مسلمانوں کے بشمول پسماندگی کاشکار دیگر طبقات کو محروم رکھنے کے عمل کو غیر جمہوری قراردیتے ہوئے کہاکہ نئی ریاست تلنگانہ کی تمام سکیولر طاقتیںجمہوریت کے فروغ کو سماجی انصاف کے قیام کو یقینی بنانے کے لئے تلنگانہ کی تمام سیاسی جماعتوں پرمسلمانوں کے بشمول پسماندگی کاشکار تمام طبقات کو آبادی کے تناسب سے تحفظات فراہم کرنے کے متعلق دبائو بنائیںگے تاکہ نئی ریاست پورے ملک کے لئے سکیولرزم کے فروغ کی مثال بن کر ابھرے۔